زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 170 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 170

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 170 جلد دوم نئے فرقہ کے رنگ میں رونما ہو گئی۔آج جتنے شقاق مسلمانوں میں نظر آتے ہیں یہ بعض مبلغین کی کمزوری کا ہی نتیجہ ہیں۔اسی طرح جو شقاق آج ہندو مذہب میں نظر آتا ہے یہ بھی کسی ہندو مبلغ کی کمزوری کا نتیجہ تھا گو ہندو مذہب آج سچا نہیں مگر کسی وقت سچا تھا۔جو شقاق آج عیسائیت میں نظر آتا ہے یہ بھی کسی عیسائی مبلغ کی کمزوری کا نتیجہ تھا گو عیسائی مذہب آج سچا نہیں مگر کسی وقت سچا تھا۔جو شقاق آج بدھوں میں نظر آتا ہے یہ بھی کسی بدھ مبلغ کی کی کمزوری کا نتیجہ تھا گو بدھ مذہب آج سچا نہیں مگر کسی وقت سچا تھا۔غرض ان تمام فرقوں کی لعنتیں ان کمزور مبلغوں پر بھی پڑتی ہیں جو اس شقاق اور تفرقہ کے موجب ہوئے کیونکہ صال اس تفرقہ اور شقاق کی بنیاد انہی کے ہاتھوں سے پڑی۔رسول کریم ﷺ نے اسی وجہ سے فرمایا ہے کہ جس شخص سے کوئی ہدایت پاتا ہے اس کی نیکیوں کا ثواب جس طرح اس شخص کو ملتا ہے جو نیکی کر رہا ہو اسی طرح ایک حصہ ثواب کا اس شخص کو بھی ملتا ہے جس کے ذریعہ اس نے ہدایت پائی ہو۔اسی طرح آپ نے فرمایا کہ جس شخص کے ذریعہ کوئی دوسرا شخص گمراہ ہوتا ہے اس کی گمراہی اور ضلالت کا گناہ جس طرح اسے ملتا ہے اسی طرح اس شخص کو بھی گناہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ گمراہ ہوا ہو۔4 محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات میں یہ بات ہمارے لئے موجود ہے۔اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ 5 تمہارے لئے رسول کریم ﷺ کے وجود میں نمونہ پایا جاتا ہے۔آپ نے تبلیغ شروع کی۔چند لوگوں نے آپ کی تبلیغ سے متاثر ہو کر آپ کو قبول کر لیا مگر باقیوں نے انکار کر دیا۔نہ مانا، نہ مانا، نہ مانا یہاں تک کہ سال گزر گیا، دوسرا سال گزر گیا، تیسرا سال گزر گیا ، چوتھا سال گزر گیا حتی کہ دس سال گزر گئے ، گیارہ سال گزر گئے اور لوگ انکار کرتے چلے گئے۔ایک ظاہر بین شخص کی نگاہ میں اس کا مایوسی کے سوا اور کوئی نتیجہ پیدا نہیں ہو سکتا تھا مگر رسول کریم کے مایوس نہ ہوئے۔تب اسی حالت میں مکہ کے لوگوں نے یہ تجویز پیش کی کہ اگر محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) بعض باتوں میں نرمی کر دیں تو ہم ان کے ساتھ مل جاتے ہیں۔ہم یہ نہیں کہتے کہ