زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 168
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 168 جلد دوم وہ اسلام چاہتا ہی نہیں۔اسلام نے کب یہ کہا تھا کہ وہ ایسے لوگ پیدا کرے جو نام کے لحاظ سے تو مسلمان کہلائیں مگر اعمال کے لحاظ سے اسلام سے ان کا کوئی تعلق نہ ہو۔اگر وہ ایسا کرتا ہے تو نہ صرف یہ کہ وہ کوئی قربانی نہیں کرتا بلکہ اسلام کی فتح کو پیچھے ڈالتا ہے اس لئے کہ جو غلط راہ پر چلے ہوئے لوگ ہوں گے وہ آئندہ کیلئے اسلام کے راستہ میں روک بن کر کھڑے ہو جائیں گے۔یہی وجہ ہے کہ میں آجکل اس بات پر زور دے رہا ہوں کہ جو منافق ہیں ان کے متعلق لوگوں کو میرے پاس رپورٹ کرنی چاہئے تا کہ میں انہیں جماعت سے الگ کر دوں کیونکہ جو قادیان میں منافق ہیں یا بیرونی جماعتوں میں وہ مخلصین کے راستہ میں روک بن جاتے اور انہیں بھی قربانیوں سے پیچھے ہٹانا چاہتے ہیں۔پس چونکہ منافق آدمی اور لوگوں میں زہر پیدا کرتا اور مخلصوں کی جماعت کوست بنانے کے درپے ہوتا ہے اس لئے ضروری ہوتا ہے کہ اس کے متعلق جماعت کو علم ہو اور وہ اس کے فتنہ سے محفوظ رہے۔اسی طرح ایسی تبلیغ جس کے نتیجہ میں اسلامی تعلیم پر عمل نہیں ہوتا وہ اسلام کی فتح کو قریب نہیں کرتی بلکہ دور ڈال دیتی ہے۔پس میں اپنے ان مبلغوں کو جو اس وقت امریکہ جا رہے ہیں اور ان کی مبلغوں کو بھی جو انگلینڈ میں کام کر رہے ہیں توجہ دلاتا ہوں کہ اگر واقعہ میں مغرب کو جاتے ہوئے کوئی قربانی ہے تو وہ یہی ہے کہ صحیح اسلام کو وہاں قائم کیا جائے۔ممکن ہے مبلغین میں سے بعض جذباتی آدمی ہوں اور اپنے گھر کو چھوڑنا پسند نہ کرتے ہوں اور میں نے جیسا کہ بتایا ہے دو فیصدی اس قسم کے لوگ بھی ہوتے ہیں، مگر پھر بھی ان کی قربانی جسمانی جذبات سے تعلق رکھنے والی ہوگی بیرونی دنیا سے تعلق رکھنے والی نہ ہوگی۔اور ان کی قربانی بھی تبھی اصلی قربانی ہوگی جبکہ وہ اس رو کا مقابلہ کریں گے جو وہاں اسلام کے خلاف جاری ہے اور اسلام کو صحیح طریق پر لوگوں کے سامنے پیش کریں گے۔اگر وہ اسلام کی صحیح تعلیم پیش کرنے کی کے نتیجہ میں مسلمان نہیں ہوتے تو نہ ہوں مگر انہیں کھلے بندوں کہہ دیا جائے کہ سچی تعلیم یہی ہے۔اور اگر وہ مسلمان ہونے کیلئے تیار ہوں تو پھر بھی انہیں صاف طور پر بتا دیا جائے کہ