زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 12 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 12

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 12 جلد دوم کی ذات اور اس کی صفات سے واقف ہونے کا نام ہے۔اور سب تغییرات جو دنیا میں ہوتے ہیں صفات الہیہ کا ظہور ہیں۔اگر کوئی ان کے اصل بواعث سے ناواقف رہتا ہے اور ان کے اثرات اسے معلوم نہیں ہوتے تو وہ جہالت میں مبتلا رہتا ہے۔ہمارے علماء کو یاد رکھنا چاہئے الفاظ سیکھ لینا اور انہیں بیان کر دینا حقیقی روحانیت نہیں۔اصلی روحانیت کا اظہار اپنی رفتار، اپنی گفتار اور اپنی ہر حرکت سے کرنا چاہئے۔میں یہ نہیں کہتا کہ وہ نمائش کریں بلکہ میں یہ کہتا ہوں کہ وہ اپنا قلب ایسا صاف کریں کہ ان کی رفتار، گفتار اور حال سے خدا کا خوف ظاہر ہو۔اور خدا کا خوف ایسی چیز نہیں جو چھپی رہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سنایا کرتے تھے ایک شخص نے چاہا کہ وہ لوگوں میں عزت حاصل کرے۔اس کے لئے وہ سات سال تک مسجد میں عبادت کرتا رہا۔مگر جب باہر نکلتا تو لوگ کہتے یہ منافق ہے۔معلوم ہوتا ہے خدا تعالیٰ کو اس کی ہدایت منظور تھی ورنہ کئی جھوٹے لوگ بھی عوام میں اپنا اثر قائم کر لیتے ہیں۔آخر ایک دن اسے خیال آیا کہ سات سال تک میں نے دنیا کی عزت کے لئے کوشش کی مگر کچھ نہ ملا۔اگر یہی عمر اللہ تعالیٰ کی عبادت میں لگاتا تو یقیناً خدا تعالیٰ حاصل ہو جاتا۔اس پر وہ رویا اور اس کے دل میں بہت رقت پیدا ہوئی۔اس نے توبہ کی اور دنیا کے خیال کو چھوڑ کر خدا کے لئے مسجد میں عبادت کرنے کے لئے گیا۔تھوڑے ہی دنوں کے بعد جدھر سے گزرتا لوگ کہتے یہ ولی اللہ جا رہا ہے۔غرض دنیا میں کئی لوگ بناوٹ تو کر لیتے ہیں اور جھوٹ کو چھپا سکتے ہیں لیکن سچ کو کوئی نہیں چھپا سکتا۔جھوٹ چھپانا کون سا مشکل کام ہے۔مگر سچائی کو کوئی نہیں چھپا سکتا۔جو خدا رسیدہ ہو وہ اگر اپنے آپ کو چھپانا بھی چاہے تو نہیں چھپا سکتا کیونکہ خدارسیدہ ہونا ایک طوفان کی ہے اور طوفان کو کون چھپا سکتا ہے۔راکھ کے ڈھیر کو تو کپڑے کے نیچے چھپایا جا سکتا ہے لیکن آندھی کو کون ہے جو کسی چیز سے روک سکے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام