زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 159 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 159

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 159 جلد دوم میں رو رہا ہوں۔تو ایسی طبائع بھی ہوتی ہیں جن پر افسردگی اور غم کی گھڑیاں آتی رہتی ہیں۔وہ تعیش اور آرام کی زندگی کو بھول جاتے اور سہولت اور آرام کے تمام ذرائع کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے رشتہ داروں اور عزیزوں اور دوستوں کی یاد میں آنسو بہانے لگ جاتے ہیں۔بعض پر یہ گھڑیاں کسی کسی وقت آتی ہیں ، بعض پر آتی ہی نہیں اور بعض ایسے بھی دیکھے گئے ہیں جو درمیان میں ہی ولایت کی تعلیم محض اس لئے چھوڑ کر آگئے کہ گھر کی جدائی ان سے برداشت نہ ہو سکی حالا نکہ آرام وہاں بہت زیادہ ہے۔تو بے شک اس قسم کے لوگ بھی ہوتے ہیں۔اور میں تسلیم کرتا ہوں کہ استثنائی رنگ میں بعض ایسے بھی لوگ ہوں جن پر اپنے رشتہ داروں اور عزیزوں کی محبت اتنی غالب ہو کہ انہیں اس ملک میں جا کر بھی تکلیف محسوس ہو۔لیکن انہیں نظر انداز کرتے اور اس قسم کی طبیعت والوں کو مستقی کرتے ہوئے جن کو خواہ کیسی ہی آرام کی جگہ لے جایا جائے اگر وہاں ان کے اقرباء اور رشتہ دار نہ ہوں تو وہ ان کی جدائی کبھی برداشت نہیں کر سکتے اور جو زیادہ سے زیادہ دو تین فیصدی ہوتے ہیں باقی 97، 98 فیصدی ایسے لوگ ہوتے ہیں جن کی نظر دنیا پر ہوتی ہے اور وہ ان ملکوں میں جانے کو ایسا ہی پسند کرتے ہیں جیسے مومن جنت میں جانے کو۔میں نے دیکھا ہے سال میں دو تین چٹھیاں بعض غیر احمدیوں کی طرف سے ضرور است قسم کی آجاتی ہیں کہ آپ ہمارے لئے صرف چند مہینوں کے خرچ کا انتظام کر دیں ہم اپنی ساری زندگی تبلیغ اسلام کیلئے وقف کرنے کیلئے تیار ہیں بشرطیکہ ہمیں اسلام کی تبلیغ کیلئے امریکہ یا انگلینڈ بھیجا جائے۔میں ہمیشہ ان کو یہی جواب دیتا ہوں کہ امریکہ یا انگلینڈ ہی صرف ایسے ملک نہیں ہیں جن میں تبلیغ اسلام کی ضرورت ہو بلکہ اور بھی کئی ایسے ممالک ہیں جن میں اسلام کی تبلیغ کی ضرورت ہے۔اگر آپ آئیں اور تبلیغ کا طریق سیکھ لیں تو میں آپ کو چین، جاپان یا کسی دوسرے ملک میں تبلیغ اسلام کیلئے بھیج سکتا ہوں۔اگر آپ ان کے ممالک میں جانے کیلئے تیار ہوں تو مجھے اطلاع دیں۔امریکہ یا انگلینڈ میں ہم آپ کو نہیں بھیج سکتے کیونکہ وہاں ہمارے مبلغ موجود ہیں۔میں نے دیکھا ہے اس جواب کے بعد