زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 141
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 141 جلد دوم میرے ذریعہ جماعت میں قائم کیا۔بے شک لوگ پہلے بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی نبوت کے قائل تھے اور مسئلہ اجرائے نبوت کو مانتے تھے مگر اس کی تفصیلات اور تشریحات معین صورت میں لوگوں کے سامنے نہیں آئی تھیں۔غیر مبایعین اعتراض کرتے ہیں کہ نبوت مسیح موعود کا مسئلہ بعد میں بنا لیا گیا ہے مگر یہ بالکل جھوٹ ہے۔ہم نے کوئی نیا مسئلہ نہیں بنایا۔ہم میں سے ہر شخص جس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاتھ پر بیعت کی قسم کھا کر کہہ سکتا ہے کہ اُس وقت بھی اس کے یہی عقائد تھے اور وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو نبی سمجھتا تھا۔مگر اس مسئلہ کی تشریح، تفصیل اور اس کے تمام پہلوؤں کا ذہن میں مستحضر ہونا یہ بالکل جدا گانہ چیز ہے۔جیسے قرآن مجید میں سب باتیں موجود ہیں مگر بحث مباحثہ کے بعد اس کی آیتوں کی جو کیفیت معلوم ہوتی ہے وہ پہلے ذہن میں نہیں ہوتی۔لیکن کوئی نہیں کہہ سکتا کہ آیتیں نئی بنائی گئی ہیں۔قرآن مجید کی آیتیں تو وہی ہوتی ہیں صرف ایک تشریح پہلے ذہن میں مستحضر نہیں ہوتی اور وہ دوسرے وقت ہو جاتی ہے۔اسی طرح نبوت کے مسئلہ کے متعلق پوری وضاحت کہ اسلام میں نبوت کس رنگ میں جاری ہے ، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی نبوت کیسی ہے اور اس نبوت میں کیا کیا استثنا ہے یہ باتیں گو مجملاً پہلے موجود تھیں مگر تفصیلا نہیں تھیں۔اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے یہ کام مجھ سے کرایا اور اب میں دیکھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے جماعت کا اس پر قیام ہو گیا ہے۔دوسری جنگ جو ابھی باقی ہے اور جس میں اگر خدا تعالیٰ نے مجھ سے کام لینا ہے تو مجھے نہیں تو کسی اور کو کام کرنا پڑے گا وہ مغربیت سے جنگ اور اس کو کچلتا ہے۔میں محسوس کرتا ہوں کہ ہم میں ایک طبقہ ایسا ہے بلکہ محسوس کیا مجھے معلوم ہے کہ ہم میں ایک طبقہ ایسا ہے جو مغربیت کے اثر کے نیچے ہے اور جب بھی اسے موقع ملا وہ مغربیت کو اسلام کا جامہ پہنا کر ہم میں داخل کرنے کی کوشش کرے گا اور ہمیں اس سے عظیم الشان جنگ کرنی پڑے گی۔جس طرح شیطان دوست بن کر اندر داخل ہوتا ہے ، جس طرح وہ ہمارے ہی