زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 136 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 136

زریں ہدایات (برائے مبلغین) 136 جلد دوم کمزوری دکھا ئیں تفصیلی بحث ہو اور انہیں دلائل کے رو سے درست ثابت کیا گیا ہو تو ہمارے مبلغ یا وہ احمدی جو تجارت وغیرہ کے لئے غیر ممالک میں جائیں ان مسائل کے متعلق اسلام کی صحیح تعلیم کو چھپا نہیں سکتے اور اس طرح معذرت کا طریق اختیار کرنا آئندہ کے لئے ناممکن ہو جاتا ہے۔مثلاً قرآن مجید میں پردہ کا حکم ہے۔اگر ہم دھڑلے کے ساتھ پردے کی خوبیاں ثابت کریں اور بے پردگی کے نقصانات بتا ئیں اور دوسرے خیالات کو رد کریں تو پھر دو ہی صورتیں ہو سکتی ہیں۔یا تو آئندہ مبلغ قرآن مجید کے ان اوراق کو جن میں ان مسائل پر بحث ہو پھاڑ کر لوگوں کے سامنے پیش کریں گے یا مجبور ہوکر وہی تعلیم بیان کریں گے جو ترجمہ قرآن مجید اور اس کے نوٹوں میں ہماری جماعت کی طرف سے پیش کی گئی ہو۔یا اگر کوئی مبلغ کثرت ازدواج کے مسئلہ کے متعلق معذرت کرنے کا عادی ہے اور ترجمہ قرآن کریم میں کثرت ازدواج کی تائید میں زور و شور سے نوٹس موجود ہوں تو مبلغ کے لئے یہی صورت رہ جاتی ہے کہ یا تو قرآن مجید کو لوگوں چھپائے یا اسے پیش کرے۔اور جب وہ قرآن مجید لوگوں کے سامنے پیش کرنے پر مجبور ہوگا کیونکہ قرآن مجید ہی وہ کتاب ہے جس سے تمام اسلامی علوم نکلتے ہیں تو وہ اس بات پر بھی مجبور ہو گا کہ اسلامی احکام کو ان کی اصل شکل میں بیان کرے۔یا اسی طرح عورتوں سے مصافحہ کرنا ہے یا سود ہے یا بعض اور مسائل ہیں جن میں اسلامی تعلیم اور مغربی تعلیم کا آپس میں تصادم ہو جاتا ہے۔اس تصادم کے موقع پر قرآن مجید کا ترجمہ ہی ایک ایسی چیز ہے جو کام آ سکتی ہے۔کیونکہ قرآن مجید میں تمام مسائل آ جاتے ہیں۔اس کے علاوہ اور کوئی کتاب ایسی نہیں جس میں اتنے انواع کے علوم ہوں جتنے انواع کے علوم قرآن مجید میں موجود ہیں۔بلکہ اگر ہم آج قرآن مجید کی موجودگی میں کوئی ایسی نئی کتاب لکھنا چاہیں جو اسی طرح تمام علوم پر حاوی ہو جس طرح قرآن مجید حاوی ہے تو نہیں لکھ سکتے کیونکہ قرآن مجید کے بطون بھی ہیں۔پس قرآن مجید کا ترجمہ اور اس کے تفسیری نوٹس ہی ایسی چیز ہیں جو مغربی ممالک میں اس مصیبت کا سر چل سکتے ہیں۔اور