زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 132
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 132 جلد دوم کے متعلق کبھی کبھی کمزوری دکھا دیا کرتا ہوں کیونکہ یہاں سخت مجبوری ہے۔عورتیں مردوں سے نہ صرف مصافحہ بلکہ معانقہ بھی کرتی ہیں۔میں معانقہ تو نہیں مگر مصافحہ کر لیتا تھا۔تو یہ چیزیں ایسی ہیں جن میں بعض دفعہ انسان مجبور ہو جاتا ہے۔کبھی حجاب آ جاتا ہے۔کبھی شرم دامنگیر ہو جاتی ہے۔اور کبھی یہ خیال آتا ہے کہ اگر میں نے مصافحہ نہ کیا تو انہیں مجھ سے نفرت پیدا ہو جائے گی اور اس طرح اسلام کی تبلیغ کو نقصان پہنچے گا۔اور یہ بجائے قریب ہونے کے اسلام سے اور زیادہ دور ہو جائیں گے۔کبھی خیال آتا ہے کہ پردے کی تائید کرنے سے انہیں تنفر پیدا ہوگا۔کبھی یہ خیال آتا ہے کہ اگر کثرت ازدواج پر میں نے زور دیا تو یہ اسلام سے دور ہو جائیں گے۔غرض اس قسم کے سوالات کی وجہ سے جو انسان کے دل میں پیدا ہوتے ہیں ایک مبلغ کمزوری دکھا دیتا ہے اور بجائے مبلغ بننے کے وہ معذرت کرنے والا ہو جاتا ہے۔اور جس قوم میں معذرت کنندے پیدا ہو جائیں اس کی تباہی کے لئے کسی اور دشمن کی ضرورت نہیں ہوا کرتی۔جو قوم اپنے خیالات اور عقائد پر خود ہی یقین نہیں رکھتی وہ کسی دوسرے سے یہ امید نہیں رکھ سکتی کہ وہ اس کے خیالات اور عقائد پر ایمان لائے۔بلکہ ایسا کمزور انسان لوگوں میں یہ جرات پیدا کر دیتا ہے کہ وہ کہیں شاید ساری قوم ہی اس قسم کی ہے۔اور بجائے اس کے کہ وہ یہ سمجھیں کہ یہ کسی مفید عقیدہ اور مفید خیال کو لے کر ہمارے پاس آتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ تبلیغ کے پردہ میں ان کی کوئی سیاسی غرض پوشیدہ ہے مذہبی روح ان کے پیچھے نہیں۔اور وہ مسائل جن کو ہمارے ذہنوں میں دلائل سے داخل نہیں کر سکتے انہیں معذرت کے پردوں کے نیچے چھپانا چاہتے ہیں ور نہ مذہبی یقین رکھنے والے دنیا کے کسی میدان میں شرمندہ نہیں ہوتے۔بے شک کلامِ احسن سے مباحثہ کرنا قرآن مجید کا حکم ہے مگر اس کا ہر گز یہ منشاء نہیں کہ ہم اس قسم کا کلام کریں جو مسائل کی حقیقت کو چھپا دے۔صرف بعض تکلیف دہ مسائل ایسے ہوتے ہیں جن کے بیان کرنے میں احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔مثلاً کفر و اسلام کا مسئلہ ہے۔اس میں ایسے الفاظ استعمال کرنے پڑتے ہیں اور