زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 126
زریں ہدایات (برائے مبلغین) 126 جلد دوم طرف توجہ نہ کریں۔لیکن میں سمجھتا ہوں ہمارے مبلغ عام طور پر ان علوم کے نام تک نہیں جانتے۔بے شک وہ سائنس کے ماسٹر نہ ہوں مگر سائنس کی کتابیں پڑھنے سے ان کی معلومات میں وسعت پیدا ہو گی اور قرآن کریم کے علوم سمجھنے میں مددمل جائے گی۔اس طرح ایک طرف تو دین کے نکات سمجھنے میں انہیں مدد ملے گی اور دوسری طرف ان علوم کی وجہ سے پیدا شدہ غلطیوں کی اصلاح کرنے کا موقع مل جائے گا۔لوگوں کے ہزاروں عقائد اور خیالات کی بنیاد سائنس اور فلسفہ پر ہے۔گو بظاہر ایسا نظر نہ آئے لیکن پس پردہ یہی ہوتا ہے اور ان علوم کی کتب پڑھنے سے اس کا پتہ لگ سکتا اور اصلاح کا موقع مل سکتا ہے۔مثلاً کفارہ کے متعلق عام طور پر جو کچھ بیان کیا جاتا ہے اس سے سمجھا جاتا ہے کہ عیسائیوں نے اسے ایجاد کیا لیکن دراصل اس کے پس پردہ رومی فلسفہ ہے جس کے نتیجہ میں کفارہ قرار دیا گیا۔اور اس کی اصل شکل وہ نہیں جس طرح کہ اسے پیش کیا جاتا ہے۔اور ہم جب تک اس فلسفہ کی حقیقت نہ سمجھیں جس کے نتیجہ میں کفارہ پیدا ہوا اُس وقت تک کسی ماہر اور عالم عیسائی کو قائل نہیں کر سکتے۔مسئلہ کفارہ پر گفتگو کرتے ہوئے ہم ایک عام عیسائی کور لا بھی سکتے ہیں اور ہنسا بھی سکتے ہیں لیکن جس نے عیسائیت کی تاریخ کا مطالعہ کیا ہو اور کفارہ کی اصل حقیقت جانتا ہو وہ ہماری باتوں سے اُس وقت تک متاثر نہ ہو گا جب تک اس بات تک نہ پہنچیں جو کفارہ کے اندر کام کر رہی ہے۔پس ان علوم کا مطالعہ کرنا بھی ضروری ہے اور خدمت دین کے لئے نہایت مفید ہو سکتا ہے۔مگر یاد رکھو ان کی ہر بات کی نقل بری ہے اور ان کی اصطلاحات سے مرعوب ہو جانا غلطی ہے۔ہمارا کام مفید باتوں سے فائدہ اٹھانا اور مرعوب کرنے والی باتوں کو توڑنا ہے۔اصطلاحات کیا ہوتی ہیں ؟ دراصل وہ علوم کے سمجھنے کے لئے اشارے ہوتے ہیں۔ایک لمبے فقرہ کو اشارہ کے ذریعہ ادا کیا جاتا ہے نہ کہ وہی علم ہوتا ہے۔پس دوسروں کی قائم کردہ اصطلاحات سے مرعوب ہونا بیوقوفی ہے اور علوم کی بنیاد ان پر رکھنا نادانی ہے۔اس کا بھی مرتکب نہ ہونا چاہئے۔پس ہر علم کی کتابیں پڑھی جائیں اور ان سے فائدہ اٹھایا