زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 125
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 125 جلد دوم دباتے ہوئے آگے نکل آتے ہیں۔پرسوں ہی ہندوستان کے ایک سابق وائسرائے لارڈ ریڈنگ کے فوت ہونے کی خبر اخبارات میں چھپی ہے۔وہ پہلی دفعہ ایک ادنی مزدور کی حیثیت سے ہندوستان میں آئے تھے۔پھر جب وہ وائسرائے کی حیثیت سے بمبئی میں اترے تو انہوں نے کہا آج میں وہ بات بتا تا ہوں جو کسی کو معلوم نہیں۔اور وہ یہ کہ میں پہلی دفعہ ساحلِ ہندوستان پر جہاز میں کوئلہ ڈالنے والے لڑکے کی حیثیت سے اترا تھا مگر آج وائسرائے کی حیثیت سے آیا ہوں۔اسی طرح ایڈیسن جو بہت بڑا موجد گزرا ہے فونوگراف وغیرہ اسی کی ایجادیں ہیں وہ اپنی ابتدائی زندگی میں خطوط پہنچانے والے لڑکے کا کام کرتا تھا۔اور وہ 9 سال سے کام کرنے لگا۔ادھر ادھر چٹھیاں پہنچا نا اس کا کام تھا۔اُس وقت ایک خط پہنچانے کے بعد دوسرا خط ملنے تک اسے جو وقفہ ملتا اس میں سائنس کی کتابیں پڑھتا رہتا اور آخر اس نے وہ ترقی حاصل کی جسے ساری دنیا جانتی ہے۔غرض انواع و اقسام کے کام کرنا، انواع و اقسام کی باتوں میں دلچسپی لینا، انواع و اقسام کے علوم کا مطالعہ کرنا جہاں انسان کو فارغ رہنے کی لعنت سے بچا سکتا ہے وہاں اس کے لئے ترقی کے راستے بھی کھول دیتا ہے۔ہمیں یورپ کی اتباع نہیں کرنی چاہئے اور کی میں دوسروں سے بہت زیادہ اس کا مخالف ہوں۔مگر میں سمجھتا ہوں کہ جو شخص خدا تعالیٰ کی خاطر ان علوم کی طرف توجہ کرتا ہے وہ اعلیٰ سے اعلیٰ نکات اخذ کر سکتا ہے۔سائنس کیا ہے؟ خدا تعالیٰ کا فعل ہے۔سائنس کے متعلق غور کرنے والے غلطیاں کر سکتے ہیں، جس طرح قرآن کریم پر غور کرنے والے بھی غلطیاں کر سکتے ہیں مگر اس سے قرآن کریم پر کوئی حرف نہیں آتا اسی طرح اگر کوئی سائنس وغیرہ علوم پر غور کرنے والا غلطی کرتا ہے تو اس سے وہ علوم برے نہیں سمجھے جاسکتے۔ہمارا فرض ہے کہ ان سے بھی فوائد حاصل کریں۔میں جب ان علوم کی کتابیں پڑھتا ہوں تو مجھے ان میں بھی ایسی باتیں ملتی ہیں جو قرآن کریم کی صداقتوں کو واضح کرتی ہیں اور اسلام کی خوبیاں نمایاں کرتی ہیں۔پس اس زمانہ میں انواع و اقسام کے جو علوم نکل رہے ہیں کوئی وجہ نہیں کہ ہم ان کی