زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 124 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 124

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 124 جلد دوم جوش ہو انسان غلطی کر سکتا ہے۔اور یہ بھی ممکن ہے کہ دوسری طرف غلطی کا رخ ہو جائے یعنی انکسار کی طرف اور اپنے کام کو بیچ سمجھنے کے متعلق مگر زیادہ تر غلطی اپنے کام کو زیادہ سمجھنے کی لگتی ہے۔پس اگر مبلغ دوسروں کی رپورٹیں پڑھیں تو اندازہ لگا لیں گے کہ ان کا زیادہ وقت بے کارگزرتا ہے۔یا درکھنا چاہئے کہ تقریر کرنا اصل تبلیغ نہیں تبلیغ زیادہ تر عمل ہوتی ہے۔دیکھو رسول کریم کی تبلیغ میں تقریروں کا بہت کم حصہ ہے۔عام طور پر لوگوں کی امداد کرنا ، ان کی اخلاقی اور روحانی تربیت کرنا، ان میں خدمت دین کی روح پیدا کرنا اصل کام تھا۔اسی طرح پر ہر ایک مبلغ بہت کام کر سکتا ہے اور عمر بھر کر سکتا ہے۔کیونکہ ان خدمات کے کرنے میں کسی ایک عضو کو استعمال نہیں کرنا پڑتا بلکہ مختلف کاموں کے لئے مختلف اجزا استعمال کئے جاتے ہیں۔بعض خدمات ہاتھوں کے ذریعہ کی جاتی ہیں، بعض کانوں سے ، بعض آنکھوں سے، بعض پاؤں سے اور بعض زبان سے۔اگر مبلغین مختلف کام کرنا اپنے ذمہ لے لیں گے تو ان کا کوئی عضو اس قدر نہ تھلے گا کہ وہ اور کام کرنے کے قابل نہ رہیں۔کیونکہ کبھی ہاتھ کام کر رہے ہوں گے، کبھی پاؤں ،کبھی زبان اور کبھی پیٹھ کام کر رہی ہوگی۔یعنی بوجھ اٹھانے کا موقع ہو تو پیٹھ سے کام لیا جا سکتا ہے۔اب بڑا نقص یہ ہے کہ ایک حصہ جسم سے کام لیا جاتا ہے اور باقیوں کو بے کار چھوڑ دیا جاتا ہے۔اب جو مبلغ بیرونی ممالک میں جار ہے ہیں انہیں خصوصیت سے میں اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ وہ ان ملکوں میں جار ہے ہیں جہاں لوگ اپنے ہر عضو سے کام لینے کے اور بہت سرگرمی سے کام کرنے کے عادی ہیں۔انواع و اقسام کے کام کرنے کے عادی ہیں۔فرق صرف یہ ہے کہ وہ شیطان کے لئے کام کرتے ہیں ہمارے مبلغین کو خدا تعالیٰ کے لئے کام کرنا چاہئے۔ان ممالک کے لوگ رات دن محنت کرنے کے عادی ہیں اور اگر صرف محنت کرنا خدا تعالیٰ کی بخشش حاصل کرنے کے لئے کافی ہوتا تو یورپ اس بات کا مستحق ہوتا کہ خدا تعالیٰ کی بخشش حاصل کر سکے۔وہ لوگ ہر قسم کی مشکلات کا مقابلہ کرتے ہوئے کام کرتے ہیں اور ان کو