زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 122
زریں ہدایات (برائے مبلغین) 122 جلد دوم اندازہ لگا کر اسے اقل ترین معیار قرار دیا جائے اور پھر اپنے کام کو دیکھا جائے کہ وہ کس قدر ہے۔کام کا وہ اندازہ جو اپنی طبیعت کی حالت سے لگایا جائے وہ طبیعت کی پریشانی کے لحاظ سے ہوتا ہے کہ بہت کام کیا یا کم۔لیکن طبیعت کے پریشان ہونے سے جو بوجھ اور تکان محسوس ہوتی ہے وہ اس بات کا ثبوت نہیں ہوتا کہ بہت کام کیا بلکہ یہ کام کرنے کے خلاف جذبہ ہوتا ہے۔میرا یہ احساس ہے جس کا میں کئی بار ا ظہار کر چکا ہوں اور شاید مجلس میں اس کا بیان کرنا موزوں نہ ہو مگر چونکہ اس بات کی اصلاح کی ضرورت ہے اس لئے میرے نزدیک اس کے بیان کرنے میں حرج نہیں۔میرا احساس یہ ہے کہ ہمارے مبلغین عام طور پر کام کرنے کے معنی نہیں سمجھتے۔میں جو کچھ ان کے متعلق سمجھتا ہوں ممکن ہے وہ غلط ہومگر میرا خیال ہے کہ اس وقت مبلغ جو کام کر رہے ہیں انسانی نقطہ نگاہ سے اس سے دس گنا زیادہ کام کیا جاسکتا ہے اگر وہ صحیح طور پر اپنے اوقات صرف کریں۔میں یہ نہیں کہتا کہ وہ دیده دانستہ فارغ بیٹھے رہتے ہیں مگر یہ ضرور کہتا ہوں کہ جسے وہ کام کہتے ہیں اس کے لحاظ سے وہ فارغ رہتے ہیں۔میں نے بار بار مبلغین کو توجہ دلائی ہے کہ ان کے کام کے معنی صرف تقریریں کرنا نہیں۔جب تک وہ اپنا کام صرف تقریریں کرنا سمجھیں گے اُس وقت تک ان کا بہت سا وقت فارغ ہی رہے گا کیونکہ سارا دن کوئی شخص تقریریں نہیں کر سکتا۔میں خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت دیر تک بول سکتا ہوں اور جن لوگوں سے میں ملا ہوں ان میں سے کوئی ایسا نہیں جو باوجود اس کے کہ میری صحت کمزور ہے مجھ سے زیادہ دیر تک بول سکتا ہو۔مگر میں جانتا ہوں کہ تقریر کرنے کے بعد اس قدر کوفت ہوتی ہے کہ جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ممکن ہے میرا یہ اندازہ اپنے متعلق ہو اور کوئی اور شخص ہر روز 12 گھنٹے بول سکتا ہو۔اور 12 سال یا 20 سال یا 50 سال تک روزانہ اسی طرح بول سکتا ہو۔مگر میں یہی سمجھتا ہوں کہ انسان ایک حد تک بول سکتا ہے۔زیادہ لمبا عرصہ نہیں بول سکتا اور زیادہ مدت تک نہیں بول سکتا۔کیونکہ جس طرح انسان کا ہر ایک عضو تھکتا ہے اسی طرح بولنے سے گلے میں بھی تھکاوٹ ہوتی ہے۔اور جس طرح اور محنتیں دماغ پر اثر کرتی ہیں