زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 115 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 115

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 115 جلد دوم ان کا صرف اپنے منہ سے تبلیغ کرنا نہیں بلکہ دوسروں کو دینی مسائل سے آگاہ کرنا ، ان کے اخلاق کی تربیت کرنا، ان کو دین کی تعلیم دینا، ان کے سامنے نمونہ بن کر قربانی اور ایثار سکھانا اور انہیں تبلیغ کے لئے تیار کرنا ہے۔گویا ہمارا ہر ایک مبلغ جہاں جائے وہاں دینی اور اخلاقی تعلیم کا کالج کھل جائے ، کچھ دیر تقریر کرنے اور لیکچر دینے کے بعد اور کام کئے جاسکتے ہیں۔مگر متواتر بولا نہیں جا سکتا کیونکہ گلے سے زیادہ کام نہیں لیا جا سکتا۔مگر باقی قوی سے کام لے سکتے ہیں۔میں تقریر کرنے کے بعد لکھنے پڑھنے کا کام سارا دن جاری رکھتا ہوں۔اب تقریر کرنے کے بعد جا کر تحریر کا کام کروں گا اور پھر شام تک گلے کو کچھ آرام حاصل ہو جائے گا تو درس دوں گا انشاء اللہ۔پس میں مبلغین کو یہ نصیحت کرنا چاہتا ہوں کہ انہوں نے اپنا کام اب جو سمجھا ہوا ہے وہ ان کا کام نہیں ہے۔یہ بہت چھوٹا اور محدود کام ہے۔افسر کا کام یہ نہیں ہوتا کہ سپاہی کی جگہ بندوق یا تلوار لے کر خود لڑے بلکہ اس کا کام یہ ہوتا ہے کہ سپاہیوں کو لڑائے۔اسی طرح مبلغ کا کام یہ ہے کہ جماعت کو تبلیغ کا کام کرنے کے لئے تیار کرے اور ان سے تبلیغ کا کام کرائے۔اس طرح خدا تعالیٰ کے فضل سے ہماری جماعت کی ترقی ہوسکتی ہے۔پہلے سے کئی گنا زیادہ بڑھ سکتی ہے۔اسی طرح جماعت کی تربیت کی طرف مبلغین کو توجہ کرنی چاہئے۔جماعت کے بیکاروں کے متعلق تجاویز سوچنی چاہئیں۔بیاہ شادیوں کی مشکلات کو حل کرنے کے لئے جدو جہد کرنی چاہئے۔غرض جس طرح باپ کو اپنی اولاد کے متعلق ہر بات کا خیال ہوتا ہے اسی طرح مبلغین کو جماعت سے متعلق ہر بات کا خیال ہونا چاہئے۔کیونکہ وہ جماعت کے لئے باپ یا بڑے بھائی کا درجہ رکھتے ہیں۔اور ہر نقص کو رفع کرنا ان کا کام ہے۔جب وہ یہ کام کریں گے تو لازمی طور پر جماعت کے لوگوں کے تعلقات ان کے ساتھ بڑھیں گے۔ان سے خلوص اور تعاون بڑھے گا۔اور اس طرح وہ دیوار جو حائل ہے اور جس کو دور کرنے کے لئے دونوں طرف سے تقریریں کی گئی ہیں حائل نہیں رہے گی۔کیا ایک مولوی کا بیٹا جب ایم اے ہو جائے تو باپ کو اس سے محبت