زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 109 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 109

زریں ہدایات (برائے مبلغین) 109 جلد دوم مطابق آخر تمام وہ لوگ جو بولنے والے تھے اور اہل الرائے سمجھے جاتے تھے مومن بن گئے اور کمزور ایمان والے ہم دو سمجھے گئے۔یعنی حضرت خلیفہ المسیح الاول اور میں۔مجھے یاد ہے حضرت خلیفہ امسح الاول کی طبیعت میں چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ادب بہت زیادہ تھا اس لئے خود کچھ عرض کرنے کی بجائے جو دلائل مدرسہ ہائی کے قائم رکھنے کے متعلق سوجھتے وہ مجھے سمجھاتے اور فرماتے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو سناؤ۔آخر میٹنگ ہوئی جس میں فیصلہ کیا گیا کہ مدرسہ ہائی کو قائم رکھا جائے اور مدرسہ احمدیہ کو الگ جاری کیا جائے۔اس طرح اللہ تعالیٰ نے مجھے توفیق دی کہ جس انسٹی ٹیوشن کی ضرورت کا انکار نہیں کیا جاسکتا اس کے قائم رکھنے کا موجب بنوں۔اس تجویز کے مطابق مدرسہ احمدیہ قائم کیا گیا یا یوں کہنا چاہئے کہ اسے مضبوط کر دیا گیا کیونکہ کچھ جماعتیں پہلے جاری تھیں۔اس وقت عام طبائع میں یہ احساس پیدا ہو گیا کہ اچھے پیمانہ پر اسے چلانا چاہئے۔اس کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام مئی 1908 ء میں فوت ہوئے اور دوسرا جلسہ جو دسمبر 1908ء میں ہوا اس میں جماعت کے سامنے یہ سوال رکھا گیا کہ مدرسہ احمدیہ کی غرض کیا ہے۔صرف یہ کہ مُلا پیدا کرے اور ملاؤں نے پہلے ہی دنیا کو تباہ کر رکھا ہے۔پھر اس مدرسہ سے کیا فائدہ پہنچ سکتا ہے۔یہ سوال جلسہ عام میں پیش کرنے کی بجائے مصلحی مجلس شوری میں پیش کیا گیا جس میں ساری جماعتوں کے نمائندے موجود تھے۔وہ لوگ جو اُس وقت خاص اثر اور رسوخ رکھتے تھے یعنی خواجہ کمال الدین صاحب، ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب، سید محمد حسین شاہ صاحب، مولوی محمد علی صاحب ان کی تجویز یہ تھی کہ تعلیمی وظائف بڑھا دیے جائیں تا کہ احمدی نوجوان زیادہ تعداد میں کالجوں میں جائیں اور پاس ہونے کے بعد ان میں سے جو دین کی خدمت کے لئے زندگی وقف کریں انہیں ایک آدھ سال میں قرآن پڑھا کر مبلغ بنا دیا جائے۔نہ معلوم کیا سبب ہوا اُس وقت ہم تشحید الاذہان کا کام بھی کیا کرتے تھے۔میں اس میں مصروف رہایا کوئی اور کام تھا۔مجلس شوری کے شروع ہونے کے وقت میں وہاں نہ پہنچ سکا اور جب وہاں پہنچا تو خواجہ کمال الدین صاحب تقریر