زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 101 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 101

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 101 جلد دوم ہے۔اس کے حصول کے لئے کوشش کرنا ہر مسلمان کا فرض ہے۔اس دنیا کی زندگی حقیقی زندگی نہیں بلکہ جو بعد کی زندگی ہے وہی اصل زندگی ہے۔اگر کوئی شخص مدرسہ کی زندگی کو اصل زندگی سمجھتا ہے تو وہ ہمیشہ ناکام رہتا ہے۔جب میں ابتدائی زمانہ میں رام پور گیا تو وہاں کے مدرسہ میں ایک پٹھان کو دیکھا جس کے بال سفید ہو چکے تھے اور اس کی عمر 45 سال کے قریب تھی۔اس سے دریافت کیا گیا کہ کیا تم اتنی مدت تک پڑھ ہی رہے ہو؟ اس نے کہا ہاں اس وقت تک تین دفعہ بخاری شریف ختم کر چکا ہوں۔میں نے اس سے دریافت کیا کس غرض کے لئے پڑھ رہے ہو؟ اس نے کہا اگر میں یہاں سے فارغ ہو کر باہر چلا جاؤں تو روٹی کہاں سے کھاؤں۔میں یہاں اس انتظار میں ہوں کہ مولوی صاحب مریں تو میں ان کا قائم مقام بنوں۔تو بعض لوگ طالب علمی کو ہی اپنا مقصد قرار دے لیتے ہیں۔ہم اس بحث میں نہیں پڑتے کہ وہ غلطی کرتے ہیں یا نہیں مگر یہ یقینی بات ہے کہ وہ لوگ غلطی پر ہیں جو اس زندگی کو اپنا مقصد قرار دے لیتے ہیں۔حالانکہ یہ زندگی اگلی زندگی کا ایک قلیل ترین جزو ہے اور انگلی زندگی کے لئے دیانت اور امانت عظیم الشان خزانے ہیں۔اگر ہم ان کو چھوڑ دیں تو ہم سے بڑھ کر گھاٹے میں اور کوئی نہیں ہوسکتا۔ہم میں سے کتے ہیں جنہیں احمدیت کی وجہ سے اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کو نہیں چھوڑنا پڑا۔بہت قلیل تعداد ان لوگوں کی ہے جن کو یہ قربانیاں نہیں کرنی پڑیں۔حتی کہ ہمارا خاندان جس کے مقامی حالات کی وجہ سے بظاہر ممکن نہیں معلوم ہوتا کہ ہمیں بھی اس مشکل سے دو چار ہونا پڑا ہو گا ہمارے بھی بہت سے رشتہ داروں کے ہم سے تعلقات احمدیت کی وجہ سے قطع ہو گئے۔میری بیوی کے چچا انسپکٹر آف سکولز تھے۔غیر متعصب بھی تھے۔قادیان میں انسپکشن کے لئے آئے تو انہوں نے پوری کوشش کی کہ مجھ سے نہ ملیں۔ایک دفعہ لاہور میں ایک شادی کے موقع پر مجھ سے انہی کے خاندان کے ایک شخص نے کہا آپ کیوں ان کی سے نہیں ملتے ؟ میں نے کہا وہ ملنا نہیں چاہتے۔میری تو خواہش ہے کہ ان سے ملوں۔ہم