زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 99 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 99

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 99 99 احمدی نوجوانوں کو نصائح 16 نومبر 1935ء کو انٹر کالجیٹ ایسوسی ایشن کے نو جوانوں نے مکرم مولوی محمد یار عارف صاحب مولوی فاضل مبلغ انگلستان کے اعزاز میں دعوت چائے دی جس میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے بھی شرکت فرمائی۔اس موقع پر حضور نے تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حسب ذیل تقریر فرمائی:۔”ہمارے عام محاورات میں بعض الفاظ اس قسم کے رائج ہو چکے ہیں کہ اگر چہ بظاہر ان کے معانی سے کوئی برا اثر محسوس نہیں ہوتا لیکن امید ہو سکتی ہے کہ آئندہ ان سے غلط مفہوم پیدا ہو۔اس قسم کے الفاظ میں سے His Holiness کا لفظ بھی ہے۔یہ محاورہ جہاں تک میرا خیال ہے مفتی محمد صادق صاحب اور مولوی عبد الرحیم صاحب نیر نے شروع کیا تھا۔رومن کیتھولک اس لفظ کو اپنے پوپ کی نسبت استعمال کرتے تھے کیونکہ وہ اس کو کلی طور پر معصوم عن الخطاء سمجھتے تھے۔اور اس بات کے قائل ہیں کہ اگر کبھی پوپ کوئی حکم خلاف شریعت بھی دے دے تو وہی شریعت ہے اور اس کی زندگی تک اُسی پر عمل ہوتا رہے گا۔کیونکہ وہ مانتے ہیں کہ جو کچھ وہ کہتا ہے خدا کی طرف سے ہوتا ہے۔لیکن ہم کسی انسان کو معصوم عن الخطاء نہیں مان سکتے۔بشری قسم کی غلطیاں تو ہر انسان سے ہو سکتی ہیں۔البتہ یہ مانتے ہیں کہ انبیاء سے شرعی غلطیاں نہیں ہو سکتیں اور وہ اس پہلو سے معصوم عن الخطاء ہوتے ہیں۔ہماری زبان میں حضرت کا لفظ ادب کے مقام پر بولا جاتا ہے۔لیکن بقول ہر چہ گیر علتی علت شود آجکل بعض لوگ اس کا استعمال بد معاش۔کے معنوں میں کرتے ہیں لیکن اس سے اس کی حقیقت اور اصلیت میں فرق نہیں پڑ سکتا۔جلد دوم