زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 95 of 396

زرّیں ہدایات (جلد دوم برائے مبلغین۔1931ء تا 1956ء) — Page 95

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 95 جلد دوم انہی کاموں کو کرتی رہے تو کسی کو اس پر اعتراض نہیں ہوگا۔اور جب کسی تیسرے کام کی ضرورت درپیش ہو تو وہ بھی پروگرام میں شامل کیا جا سکتا ہے۔خواہ مستقل طور پر یا عارضی طور پر۔یہ طریق ہے جس سے کام پوری توجہ سے کیا جا سکتا ہے اور اپنی طاقتوں کو صرف کرنے کا موقع حاصل ہو جاتا ہے۔ایڈریس کے جواب میں جو کچھ کہا گیا ہے شاید اسے میں نظر انداز کر دیتا مگر اس میں کی چونکہ ایسی باتوں کا اظہار کیا گیا ہے جن کی یہاں ضرورت نہیں تھی۔یہ کوئی ایسی انجمن نہیں ہے جس میں کوئی ایسی رپورٹ پیش کی جائے جو لندن میں طریق تبلیغ کے معاملہ سے تعلق رکھتی ہو۔مولوی صاحب کی تقریر سے یہ معلوم ہوتا تھا کہ گویا وہ صدر انجمن احمد یہ کے سامنے تقریر کر رہے ہیں۔ینگ مینز احمد یہ ایسوسی ایشن کو یہ اختیار حاصل نہیں ہے کہ وہ لندن مشن کے نظام میں دخل دے اس لئے ایسی تقریر کی بھی ضرورت نہ تھی اس لئے اس سے متعلق میں چاند با تیں کہنی چا ہتا ہوں۔ولایت کے مشن کے متعلق یہ بات کہ آیا وہاں دو آدمی کام کر سکتے ہیں یا ایک ایسی بات نہیں کہ جس کے متعلق کسی غور و غوض کی ضرورت ہو۔میرے نزدیک یہ غلط ہے کہ کسی جگہ دو مبلغوں کا ہونا کام کو خراب کر سکتا ہے۔ہاں اگر ان کی ذہنیت خراب ہو تو پھر کام خراب ہو سکتا ہے۔قادیان میں آٹھ ناظر ہیں، مبلغ ہیں، ناظروں کے ماتحت بہت سے کارکن ہیں جن کی کل تعداد دو سو کے قریب ہوگی اور وہ سب یہاں کام کرتے ہیں۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ اگر ان دو سو آدمیوں کو علیحدہ علیحدہ شہروں میں بھیج دیا جائے تو کام بہت اچھا ہو سکتا ہے۔اگر اس طرح کیا جائے تو کام فوراً بند ہو جائے گا۔انگلستان میں بیسیوں شہر ہیں، ہزاروں قصبات ہیں اگر چہ وہ پنجاب کی دو تہائی کے قریب ہے تا ہم ایک وسیع ملک ہے۔کروڑوں انسان آباد ہیں وہاں ایک دو مبلغوں سے کس طرح جگہ جگہ تبلیغ ہو سکتی ہے۔کوئی شخص ایک ضلع میں بیٹھ کر بھی ضلع کے سارے لوگوں کو تبلیغ نہیں کر سکتا کجا یہ کہ ایک دو آدمی ایک ملک کے ہر حصے میں تبلیغ کر سکیں۔یہ تو ہوسکتا ہے کہ ایک مبلغ دورہ کرے