زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 93
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 93 جلد اول اخلاق درست رکھنے بھی نہایت ضروری ہیں۔مگر اس کے اخلاق کا اثر مخالفین پر اتنا نہیں ہوتا جتنا ان لوگوں کے اخلاق پر ہوتا ہے جو ہر وقت ان کے پاس رہتے ہیں۔مبلغ تو ایک آدھ دن کے لئے کسی جگہ جائے گا اور مخالفین اس کے اخلاق کا اندازہ بھی نہ لگا سکیں گے۔ان پر تو وہاں کے احمدیوں کے اخلاق کا ہی اثر ہو گا۔لیکن اگر ان احمدیوں کے اخلاق اچھے نہیں جو ان میں رہتے ہیں تو خواہ انہیں کوئی دلیل سناؤ ان کے سامنے وہاں کے لوگوں کے ہی اخلاق ہوں گے اور ان کے مقابلہ میں دلیل کا کچھ بھی اثر ان پر نہ ہوگا۔پس مبلغ کا یہ اولین فرض ہے کہ جہاں جائے وہاں کے لوگوں کے متعلق دیکھے کہ ان کے روحانی اور ظاہری اخلاق کیسے ہیں اور ان کے اخلاق اور عبادات کو خاص طور پر دیکھے اور ان کی نگرانی کرتا رہے۔جب بھی جائے مقابلہ کرے کہ پہلے کی نسبت انہوں نے ترقی کی ہے یا نہیں۔یہ نہایت ضروری اور اہم بات ہے۔اور ایسی اہم بات ہے کہ اگر اخلاق درست نہ ہوں تو ساری دلیلیں باطل ہو جاتی ہیں۔اور اگر اخلاق درست ہوں تو ایک آدمی بھی بیسیوں کو احمدی بنا سکتا ہے۔کیونکہ دس تقریریں اتنا اثر نہیں کرتیں جتنا اثر ایک دن کے اعلیٰ اخلاق کا نمونہ کرتا ہے۔کیونکہ یہ مشاہدہ ہوتا ہے اور مشاہدہ کا اثر دلائل سے بہت زیادہ ہوتا ہے۔دیکھو اگر ذلِكَ الْكِتُبُ لَا رَيْبَ فِيهِ 8 کا اثر بذریعہ کشف دل پر ڈال دیا جائے تو اس کا اتنا اثر ہوگا کہ سارے قرآن کے الفاظ پڑھنے سے اتنا نہ ہوگا۔کیونکہ وہ مشاہدہ ہو جائے گا۔یہی وجہ ہے کہ صوفیاء نے کہا ہے کہ ایک آیت پر عمل کرنا بہتر ہے بہ نسبت سارا قرآن پڑھنے کے۔اس کا غلط مطلب سمجھا گیا کہ ایک ہی آیت کو لے لینا چاہئے اور باقی قرآن کو چھوڑ دینا چاہئے۔حالانکہ اس سے مراد وہ اثر ہے جو کسی آیت کے متعلق کشفی طور پر انسان پر ہو۔تو اخلاق کا نمونہ دکھانا بڑی تاثیر رکھتا ہے۔اسی کے متعلق قرآن میں آیا ہے رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ كَانُوا مُسْلِمِینَ و کفار مسلمانوں کے اخلاق کو دیکھ کر خواہش کرتے کہ کاش ہم بھی ایسے ہو جائیں۔یہ اخلاق ہی کا اثر ہو سکتا ہے کہ