زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 89
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 89 جلد اول اگر ان کی اصلاح کرلی جائے تو وہ بھی ویسے ہی انسان بن سکتے ہیں جیسا کہ دوسرے۔چنانچہ مسیحیوں میں بعض چوہڑوں نے تعلیم پا کر بہت ترقی کر لی ہے۔ان کے باپ یا دادا عیسائی ہو گئے اور اب وہ علم پڑھ کر معزز عہدوں پر کام کر رہے ہیں اور معزز سمجھے جاتے ہیں۔پس اگر ان لوگوں کی اصلاح کرلی جائے تو یہ بھی اوروں کی طرح ہی مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔ہمارے مبلغوں کو اس طرف بھی خیال کرنا چاہئے اور ان لوگوں میں بھی تبلیغ کرنی چاہئے۔سولہویں ہدایت جانتا ہو۔بہت لوگ اس بات کو معمولی سمجھتے ہیں اور اس سے کام سولہویں بات مبلغ کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ لوگوں سے ملنا جلنا نہیں لیتے۔لوگوں کے ساتھ ملنے جلنے سے بڑا فائدہ ہوتا ہے اور اس طرح بہت اعلیٰ نتائج نکلتے ہیں۔رسول کریم ﷺ ابتدا میں لوگوں کے خیموں میں جاتے اور تبلیغ کرتے تھے۔وہ لوگ جو اپنے آپ کو بڑا آدمی سمجھتے ہیں وہ عام لیکچروں میں نہیں آتے ان کے گھر جا کر ان سے ملنا چاہئے۔اس طرح ملنے سے ایک تو وہ لوگ باتیں سن لیتے ہیں دوسرے ایک اور بھی فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔اور وہ یہ کہ اگر کبھی کسی قسم کی مدد کی ضرورت ہوگی تو اگر یہ لوگ ظاہری مدد نہیں دیں گے تو خفیہ ضرور دیں گے کیونکہ ملنے اور واقفیت پیدا کر لینے سے ایک ذاتی تعلق پیدا ہو جاتا ہے۔اور وہ لوگ جن میں شرافت ہوتی ہے اس کا ضرور لحاظ رکھتے ہیں۔ہمارے مسٹر محمد امین سابق ساگر چند صاحب میں ملنے کی عادت ہے۔وہ لارڈوں تک سے ملتے رہے ہیں اور اب تک خط و کتابت کرتے رہتے ہیں۔تو ملنے جلنے اور واقفیت پیدا کر لینے سے انسان بہت سی باتیں سنا سکتا ہے جو کسی دوسرے ذریعہ سے نہیں سنا سکتا۔اس لئے ہمارے مبلغوں کو اس بات کی بھی عادت ڈالنی چاہئے اور اس سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔سترھویں بات یہ ہے کہ مبلغ میں ایثار کا مادہ ہو۔جب تک یہ نہ سترھویں ہدایت ہولوگوں پر اثر نہیں پڑتا۔جب ایثار کی عادت ہو تو لوگ خود بخود کھنچے چلے آتے ہیں۔کئی لوگ کہتے ہیں کہ ہم ایثار کس طرح کریں؟ کون سا موقع ہمارے