زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 81
زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 81 جلد اول دفتر کو اس کے متعلق تاکید کی تھی کہ ہر جگہ تبلیغ کرنے والے مقرر کئے جائیں اور اس نے نیم مردہ سی تحریک بھی کی جو اسی حالت میں رہی۔کئی جگہ تبلیغی سیکرٹری مقرر ہی نہیں ہوئے اور کسی جگہ مقرر ہوئے تو انہوں نے کچھ کیا نہیں۔دراصل ان کو پہلے خود زندہ ہونا چاہئے اور زندگی کی علامات ظاہر کرنی چاہئیں تا کہ دوسروں کو زندہ کر سکیں۔لیکن جبکہ وہ خود مردہ حالت میں پڑے ہیں تو ان سے کسی کام کی کیا امید ہو سکتی ہے ہے۔غرض جہاں مبلغ جائیں وہاں دوسروں کو تبلیغ کرنا سکھائیں اور بتائیں کہ اس طرح بحث کرنی چاہئے۔بحث کرنا اور بات ہوتی ہے اور لیکچر دینا اور۔اس لئے بحث اور دوسرے مذاہب کے متعلق گفتگو کرنے کے گر سکھانے چاہئیں تا کہ ایسے لوگ پیدا ہو جائیں جو ان کے بعد کام کرتے رہیں۔(بعد از نماز مغرب) میں نے پہلے دس باتیں بیان کی تھیں۔اب گیارھویں بات بتا تا ہوں۔گیارھویں بات جس کا یا درکھنا مبلغ کے لئے ضروری ہے وہ گیارھویں ہدایت نازک امر ہے بہت لوگ اس کی طرف توجہ نہیں رکھتے اس لئے بعض دفعہ زک پہنچ جاتی ہے۔میں نے اس سے خاص طور پر فائدہ اٹھایا ہے اور یہ ان باتوں میں سے ہے جو بہت سہل الحصول ہیں۔مگر تعجب ہے کہ بہت لوگ اس سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔اور وہ یہ ہے کہ دشمن کو کبھی حقیر نہ سمجھو اور اس کے ساتھ ہی کبھی یہ خیال اپنے دل میں نہ آنے دو کہ تم اس کے مقابلہ میں کمزور ہو۔مجھے مباحثات کم پیش آتے ہیں اس لئے میں اس معاملہ میں کم تجربہ رکھتا ہوں مگر میں نے دیکھا ہے کہ بعض دفعہ نہایت کم علم اور معمولی سے آدمی نے ایسا اعتراض کیا ہے کہ جو بہت وزنی ہوتا ہے اور کئی دفعہ میں نے بچوں کے منہ سے بڑے بڑے اہم اعتراض سے ہیں۔اس لئے یہ خیال نہیں کرنا چاہئے کہ ہمارا مد مقابل کم علم اور جاہل انسان ہے اور اس