زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 77 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 77

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 77 جلد اول نے فرمایا ہے کہ مسجد میں کوئی تھوکتا ہے تو یہ ایک غلطی ہے اس کا کفارہ یہ ہے کہ تھوک کو دفن کرے۔4 حضرت صاحب کی طبیعت میں کتنی بردباری تھی مگر آپ نے اس وجہ سے باہر لوگوں کے ساتھ کھانا کھانا چھوڑ دیا کہ ایک شخص نے کئی چیزیں ساگ ، فرنی، زردہ ، شور با وغیرہ ملا کر کھایا۔فرماتے تھے کہ اس سے مجھے اتنی نفرت ہوئی کہ قے آنے لگی۔اس کے بعد آپ نے باہر کھانا کھانا چھوڑ دیا اور اس طرح لوگ اس فیض سے محروم ہو گئے جو آپ کے ساتھ کھانا کھانے کے وقت انہیں حاصل ہوتا تھا۔پھر حضرت صاحب فرماتے اور میری طبیعت میں بھی یہ بات ہے کہ اگر استرے سے سر کو منڈوا کر کوئی سامنے آئے تو بہت برا لگتا ہے اور مجھے تو اسے دیکھ کر سر درد شروع ہو جاتی ہے۔تو ظاہری صفائی اور ظاہری حالت کے عمدہ ہونے کی بھی بہت ضرورت ہے تا کہ لوگوں کو نفرت نہ پیدا ہو۔اور وہ بات کرنا تو الگ رہا دیکھنا بھی نہ چاہیں۔مگر ظاہری صفائی سے میرا یہ مطلب نہیں ہے کہ کالر اور نکٹائی وغیرہ لگانی چاہئے اور بال ایک خاص طرز کے بنائے جائیں۔ان میں سے بعض باتوں کو تو ہم لغو کہیں گے اور بعض کو نا جائز۔مگر جو ضروری صفائی ہے یعنی کوئی غلاظت نہ لگی ہو یا کوئی یو دار چیز نہ لگی ہو اس کا ضرور خیال رکھنا چاہئے۔ہاں یہ بھی نہ کرے کہ ہر وقت کپڑوں اور جسم کی صفائی میں لگا رہے کیونکہ اگر ایسا کرے گا تو پھر کام خراب ہو جائے گا۔چھٹی بات مبلغ کے لئے یہ ہے جس میں بہت کوتا ہی ہوتی ہے کہ جو مبلغ چھٹی ہدایت دورے پر جاتے ہیں وہ خرچ بہت کرتے ہیں۔میرے نزدیک مبلغ کے لئے صرف یہی جائز ہے کہ وہ کرایہ لے، کھانے کی قیمت لے یا رہائش کے لئے اسے کچھ خرچ کرنا پڑے تو وہ لے۔گویا میرے نزدیک قوت لا يَمُوتُ یا ایسے اخراجات جو لازمی طور پر کرنے پڑیں ان سے زیادہ لینا ان کے لئے جائز نہیں ہے۔مثلاً مٹھائی وغیرہ یا اور کوئی مزہ کے لئے چیزیں خریدی جائیں تو ان کا خرچ اپنی گرہ سے دینا چاہئے۔ہماری تو