زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 76 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 76

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 76 جلد اول ہوئی ہو۔حضرت صاحب فرمایا کرتے تھے ایک بادشاہ تھا جو کسی پیر کا بڑا معتقد تھا اور اپنے وزیر کو کہتا رہتا تھا کہ میرے پیر سے ملو۔وزیر چونکہ اس کی حقیقت جانتا تھا اس لئے ٹلاتا رہتا۔آخر ایک دن جب بادشاہ پیر کے پاس گیا تو وزیر کو بھی ساتھ لیتا گیا۔پیر صاحب نے بادشاہ سے مخاطب ہو کر کہا بادشاہ سلامت ! دین کی خدمت بڑی اچھی چیز ہے۔سکندر بادشاہ نے دین اسلام کی خدمت کی اور وہ اب تک مشہور چلا آتا ہے۔یہ سن کر وزیر نے کہا دیکھئے حضور! پیر صاحب کو ولایت کے ساتھ تاریخ دانی کا بھی بہت بڑا ملکہ ہے۔اس پر بادشاہ کو اس سے نفرت ہوگئی۔حضرت صاحب یہ قصہ سنا کر فرمایا کرتے تھے کہ علم مجلس بھی نہایت ضروری ہے۔جب تک انسان اس سے واقف نہ ہو دوسروں کی نظروں میں حقیر ہو جاتا ہے۔اسی طرح آداب مجلس کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔مثلاً ایک مجلس مشورہ کی ہو رہی ہو اور کوئی بڑا عالم ہو مگر اس مجلس میں جا کر سب کے سامنے لیٹ جائے تو کوئی اس کے علم کی پرواہ نہیں کرے گا اور اس کی نسبت لوگوں پر بہت برا اثر پڑے گا۔پس یہ نہایت ضروری علم ہے اور مبلغ کا اس کو جاننا بہت ضروری ہے۔ہر ایک مبلغ کو چاہئے کہ وہ جغرافیہ، تاریخ، حساب، طب، آداب گفتگو، آداب مجلس وغیرہ علوم کی اتنی اتنی واقفیت ضرور رکھتا ہو جتنی مجلس شرفاء میں شامل ہونے کے لئے ضروری ہے۔اور یہ کوئی مشکل کام نہیں تھوڑی سی محنت سے یہ بات حاصل ہو سکتی ہے اس کے لئے ہر علم کی ابتدائی کتابیں پڑھ لینی چاہئیں۔پھر واقعات حاضرہ سے واقفیت ہونی چاہئے مثلاً کوئی پوچھے کہ مسٹر گاندھی کون ہے؟ اور مبلغ صاحب کہیں کہ میں تو نہیں جانتا۔تو سب لوگ ہنس پڑیں گے اور اسے حقیر سمجھیں گے اس لئے ایسے واقعات سے جو عام لوگوں سے تعلق رکھتے ہوں اور روزمرہ ہور ہے ہوں ان سے واقفیت حاصل کرنا بھی ضروری ہے۔پانچویں بات مبلغ کے لئے یہ ضروری ہے کہ غلیظ نہ ہو۔ظاہری علامت پانچویں ہدایت کے متعلق بھی خاص خیال رکھا گیا ہے۔چنانچہ رسول کریم میے