زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 75 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 75

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) چوتھی ہدایت 75 جلد اول کئے کہ لوگوں کو معلوم ہو کہ یہ ہمارا ہمدرد ہے۔اگر لوگوں پر یہ بات ثابت ہو جائے تو پھر مذہبی مخالفت سرد ہو جائے کیونکہ مذہبی جذبات ہی ساری دنیا میں کام نہیں کر رہے۔اگر یہی ہوتے تو ساری دنیا مسلمان ہوتی۔پس مبلغ کے لئے نہایت ضروری ہے کہ وہ جہاں جائے وہاں کے لوگوں پر ثابت کر دے کہ وہ ان کا ہمدرد اور خیر خواہ ہے۔جب لوگ اسے اپنا خیر خواہ سمجھیں گے تو اس کی باتوں کو بھی سنیں گے اور ان پر اثر بھی ہوگا۔چوتھی بات مبلغ کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ دنیا وی علوم سے جاہل نہ ہو۔اس سے بہت برا اثر پڑتا ہے۔مثلاً ایک شخص پوچھتا ہے کہ جاوا کہاں ہے؟ گو اس کا دین اور مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اگر کوئی نہ جانتا ہو تو اس کے مذہب میں کوئی نقص نہیں آ جائے گا مگر جب ایک مبلغ سے یہ پوچھا جائے گا اور وہ اس کے متعلق کچھ نہیں بتا سکے گا تو لوگ اسے حقیر سمجھیں گے کہ اتنا بھی نہیں جانتا کہ جاوا کہاں ہے جہاں تین کروڑ کے قریب مسلمان بستے ہیں۔تو مبلغ کو جنرل نالج حاصل ہونا چاہئے تا کہ کوئی اسے جاہل نہ سمجھے۔ہاں یہ ضروری نہیں کہ ہر ایک علم کا عالم ہی ہو۔لیکن کچھ نہ کچھ واقفیت ضرور ہونی چاہئے۔حضرت خلیفۃ المسیح الاول ایک واقعہ سنایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ آپ ایک بیمار کو دیکھنے کے لئے گئے وہاں ایک اور طبیب صاحب بھی بیٹھے تھے۔آپ نے اہل خانہ سے پوچھا کہ تھرما میٹر لگا کر بیمار کو دیکھا ہے یا نہیں؟ طبیب صاحب نے کہا اگر آپ نے انگریزی دوائیاں استعمال کرتی ہیں تو میں جاتا ہوں۔مولوی صاحب نے فرمایا تھرما میٹر کوئی دوائی نہیں بلکہ ایک آلہ ہے جس سے بخار کا درجہ معلوم کیا جاتا ہے کہ کس قدر ہے۔اس نے کہا آلہ ہو یا کچھ اور ہر ایک انگریزی چیز گرم ہوتی ہے اور بیمار کو پہلے ہی بہت زیادہ گرمی ہے۔تو اس قسم کے لوگ بھی ہوتے ہیں جنہیں عام باتوں کا کچھ علم نہیں ہوتا اور مجلسوں میں سخت حقیر سمجھے جاتے ہیں۔مبلغ کے لئے یہ نہایت ضروری ہے کہ وہ علم مجلس سے واقف ہو اور کسی بات کے متعلق ایسی لاعلمی کا اظہار نہ کرے جو بیوقوفی کی حد تک پہنچی