زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 73
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 73 جلد اول بوقت ضرورت اس کی جنبہ داری کریں اور اس طرح ان ممالک میں کوئی شخص اکیلا نہیں ہوتا۔جو حال یہاں گھرانوں کا ہوتا ہے وہ ان ممالک میں قوموں کا ہوتا ہے۔اور اگر ان ممالک میں پندرہ ہیں آدمی جان ہتھیلی پر رکھ کر چلے جائیں اور کچھ لوگوں کو بھی احمدی بنا لیں تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ارد گرد کی قو میں ان پر ظلم کریں گی اور قومی جنبہ داری کے خیال سے ان کے ہم قوم بھی احمدیت کو قبول کر لیں گے اور اس طرح تھوڑے ہی عرصہ میں تھیں چالیس لاکھ آدمی سلسلہ میں داخل ہوسکتا ہے۔۔افریقہ کے لوگ اسی طرح عیسائی ہوئے۔پہلے پہل ان میں ایک عورت گئی جو علاج وغیرہ کرتی تھی اس وجہ سے وحشی لوگ اسے کچھ نہ کہتے۔لیکن ایک دن انہیں غصہ آ گیا اور کی اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے کھا گئے۔اس عورت کا ایک نوکر تھا جسے اس نے عیسائی کیا ہوا تھا۔اس نے تین سو میل کے فاصلہ پر جا کر جہاں انگریز موجود تھے بتایا کہ وہ عورت ماری گئی ہے۔وہاں سے ولایت تار دی گئی اور لکھا ہے کہ جب ولایت میں اس عورت کے مرنے کی تار شائع ہوئی تو جس مشن سے وہ عورت تعلق رکھتی تھی اس میں صبح سے لے کر شام تک بہت سی عورتوں نے درخواستیں دیں کہ ہم کو وہاں بھیج دیا جائے۔چنانچہ بہت سے مبلغ اپنے خرچوں پر وہاں گئے اور سارے یوگنڈا علاقہ کے لوگ عیسائی ہو گئے۔وہ عورت سات سال تک اکیلی وہاں کام کرتی رہی اور جب وہ ماری گئی تو اس کی دلیری اور جرات کی وجہ سے سب میں جرات پیدا ہوگئی اور انہوں نے کسی خطرے کی پرواہ نہ کرتے ہوئے وہاں جانے کی درخواستیں دے دیں۔پس مبلغ کی جرات بہت بڑا کام کرتی ہے اور اس کی وجہ سے دوسروں میں بھی جرات پیدا ہو جاتی ہے۔ایک دفعہ ایک شخص نے خوشی سے سنایا کہ پیغامیوں کے مبلغوں کو ایک جگہ مار پڑی ہے۔وہ تو خوش ہو کر سنا رہا تھا مگر میں اس وقت افسوس کر رہا تھا کہ وہاں ہمارے مبلغ کیوں نہ تھے جنہیں مار پڑتی اور دلیری اور جرات دکھانے کا انہیں موقع ملتا۔گو افسوس ہے کہ پیغامی مبلغوں نے بزدلی دکھائی اس موقع کو ضائع کر دیا مگر ان کا مار کھانا