زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 65 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 65

زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 65 جلد اول ڈائنامیٹ چلانے والے کو بھی ساتھ ہی اڑا کر لے جاتا ہے اسی طرح یہ بھی کام لینے والے کو اڑا کر لے جاتا ہے۔لوگوں نے شعور کی مختلف تعریفیں کی ہیں مگر میری اس سے مراد اس جس سے ہے جو فکر اور عقل کے علاوہ انسان کے اندر رکھی گئی ہے اور جس کا تعلق دلائل عقلیہ کے ساتھ نہیں ہوتا بلکہ انسان کی اندرونی جوں کے ساتھ ہوتا ہے اور جسے ہم جذبات کہہ سکتے ہیں۔جیسے محبت ہے ، غضب ہے، شہوت ہے، خواہش بقا ہے۔بہت دفعہ عقلی دلائل سے کسی مسئلہ کو ثابت کرنے سے اس قدر اس کی طرف میلان یا اس سے نفرت پیدا نہیں ہوتی مگر ان جذبات کو ابھار دینے سے انسان فورا بات کو قبول کر لیتا ہے اور ان احساسات کو ابھار کر بڑے بڑے کام لئے جا سکتے ہیں اور لئے جاتے ہیں اور اس کے ذریعہ ایک گھڑی میں کچھ کا کچھ ہو جاتا ہے۔چنانچہ دیکھا ہوگا کہ کہیں بحث ہو رہی ہے جب مولوی دیکھے کہ میں ہارنے لگا ہوں تو وہ کہہ دے گا مسلمانو! تمہیں شرم نہیں آتی رسول کریم سے کی ہتک ہو رہی ہے تم خاموش بیٹھے سن رہے ہو۔یہ سن کر سب کو جوش آ جائے گا اور وہ شور ڈال دیں گے۔چاہے ہتک ہو رہی ہو یا نہ ہو رہی ہو جذ بات جس وقت ابھر جاویں تو غلط اور صحیح کی بھی تمیز نہیں رہتی اور ایک روچل پڑتی ہے جس میں لوگ بہنے لگ جاتے ہیں۔غلط طور پر اس سے کام لینا جائز نہیں۔لیکن جب عقل اس کی تائید کرتی ہو اور حق اور صداقت کے لئے حق اور صداقت کے ساتھ کام لیا جائے تو اس کا استعمال جائز ہے بلکہ بسا اوقات ضروری ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں ہم دیکھتے ہیں کہ اس طریق سے بہت کام لیا گیا ہے اور پھر حضرت مسیح موعود نے بھی اس سے خوب ہی کام صلى الله لیا ہے۔آپ وفات مسیح کے متعلق دلائل لکھتے لکھتے یہ بھی لکھ جاتے ہیں کہ رسول کریم ہے تو زمین میں دفن ہوں اور حضرت عیسی آسمان پر بیٹھے ہوں ایک مسلمان کی غیرت اس کی بات کو کس طرح گوارا کر سکتی ہے۔یہ وفات مسیح کی عقلی دلیل نہیں لیکن ایک روحانی دلیل ہے اور اس سے جذبات بھی ابھر آتے ہیں۔اور اس کا جس قدر دلوں پر اثر ہوتا ہے ہزار ہا دلیلوں کا نہیں ہوگا۔کیونکہ اس کے ذریعہ سے وہ میلان طبعی جو نسلاً بعد نسل اسلام