زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 1
زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 1 جلد اول بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ مبلغین کے لئے ہدایات مبلغین احمدیت حیدر آباد دکن حضرت مولانا مفتی محمد صادق صاحب اور حضرت مولانا حافظ روشن علی صاحب کے نام حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے جو ہدایات پر مشتمل مکتوب تحریر فر ما یاوہ درج ذیل ہے:۔د مگر می مفتی صاحب و حافظ صاحب السَّلَامُ عَلَيْكُمُ۔آپ کے خط ملے۔حافظ صاحب کا اپنا لکھا ہوا خط دیکھ کر مجھے نہایت خوشی ہوئی کیونکہ مجھے معلوم نہ تھا کہ وہ لکھ سکتے ہیں۔دعاؤں پر بہت زور دیں۔میرے رسالہ القول الفصل“ پر مولوی محمد علی صاحب نے ایک رسالہ لکھا ہے اور اس کا جواب میں نے بھی لکھا ہے جو چھپ رہا ہے قریباً ڈیڑھ سو صفحہ کا رسالہ ہوگا نبوت کی حقیقت پر میں نے لکھا ہے اور اصولی بحث کی ہے اور اللہ تعالیٰ نے ایک ایسا پہلوسمجھایا ہے کہ ان لوگوں کے سب حوالے ایک ہی جواب سے حل ہو جاتے ہیں چھپنے پر انشاء اللہ بھیج دیا جائے گا۔آپ اپنی تقریروں اور تحریروں میں اس بات کو مدنظر رکھیں کہ بات گول مول نہ ہو بلکہ صاف اور واضح ہو اور ایسی نہ ہو کہ بعد میں حقیقت بیان کرنے سے دل ہچکچائے اور مشکل پیش آوے۔اگر کوئی شخص مثلاً سوال کرے کہ آپ ہمیں کیا خیال کرتے ہیں تو اس کی کو بجائے یہ جواب دینے کے کہ جو کسی کو کافر کہے وہ خود کا فر ہوتا ہے اور اس طرح بجائے اسے اور اپنے آپ کو ابتلاء میں ڈالنے کے اسے یہ سمجھایا جاوے کہ سعید الفطرت انسان کا کام یہ نہیں کہ یہ پوچھے کہ آپ ہمیں کیا سمجھتے ہیں بلکہ اسے چاہئے کہ یہ دیکھے کہ حق کس طرف