زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 62
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 62 جلد اول پہنچانا ضروری ہے اور جو ماننے والے ہوں ان کے لئے تفصیل کی ضرورت ہوتی ہے کہ فلاں بات کس طرح کرنی چاہئے اور فلاں کس طرح۔اس لحاظ سے تبلیغ کی موٹی تقسیم یہ ہوئی کہ ایک تو ان لوگوں کو تبلیغ کرنا جو اسلام کو نہیں مانتے۔ان کو اصولی باتیں بتانی چاہئیں۔اور دوسرے ان کو تبلیغ کرنا جو مسلمان تو کہلاتے ہیں مگر اسلام کی باتوں کو جانتے نہیں یا جانتے ہیں تو ان پر عمل نہیں کرتے۔ان کو اصول کے علاوہ فروع سے بھی آگاہ کرنا۔غرض دو طرح کی تبلیغ ہوتی ہے۔ایک ظاہر کے متعلق اور ایک باطن کے متعلق۔وہ لوگ جو ابھی اسلام میں داخل ہی نہیں ہوئے ان کے تو قفل لگے ہوئے ہیں۔جب تک پہلے وہ نہ کھلیں ان کے باطن میں کوئی چیز داخل نہیں ہو سکتی اس لئے ان کی بیرونی اصلاح کی ضرورت ہے۔انہیں اصولی باتیں سمجھائی جائیں۔مگر جو اپنی جماعت کے لوگ ہیں ان کے تو قفل کھلے ہوئے ہیں ان کی اندرونی اصلاح کی جاسکتی ہے۔ان میں روحانیت، تقومی ، طہارت اور پاکیزگی پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔مبلغ کے کام کی اہمیت یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ مبلغ کا فرض بہت بڑا ہوتا ہے۔لوگ کسی ایک بات کو بھی آسانی سے نہیں مانتے۔لیکن مبلغ کا کام یہ ہوتا ہے کہ ہزاروں باتوں کو منوائے۔پھر ایک آدمی سے منوانا بہت مشکل ہوتا ہے چہ جائیکہ ساری دنیا کو منوایا جائے۔انتظام کے طور پر اور کام چلانے کے لئے خواہ مبلغوں کے لئے علاقے تقسیم کر دیئے جائیں مگر اصل بات یہی ہے کہ جو ضلع گورداسپور میں تبلیغ کرتا ہے وہ اسی ضلع کا مبلغ نہیں ہے بلکہ ساری دنیا کا مبلغ ہے۔اسی طرح ضلع لاہور میں جو تبلیغ کرتا ہے وہ لاہور کا مبلغ نہیں ہے بلکہ ساری دنیا کا مبلغ ہے کیونکہ مبلغ کے لئے کوئی خاص علاقہ مقرر نہیں کیا گیا بلکہ قرآن کریم میں یہی بتایا گیا ہے کہ مبلغ کا علاقہ سب دنیا ہے۔غرض مبلغوں کا کام بہت بڑا ہے اور اتنا بڑا ہے کہ حکومتیں بھی اس کام کو نہیں کر سکتیں۔حکومتیں زور سے یہ باتیں منواتی ہیں کہ چوری نہ کرو قتل نہ کرو، ڈاکہ نہ ڈالو گران