زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 63 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 63

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 63 جلد اول باتوں کو لوگوں کے دلوں سے نہیں نکال سکتیں۔حکومتیں یہ تو کر سکتی ہیں کہ مجرم کو پھانسی پر چڑھا کر مار دیں لیکن یہ نہیں کر سکتیں کہ جرم کا میلان دل سے نکال دیں۔مگر مبلغ کا کام دل سے غلط باتوں کا نکالنا اور ان کی جگہ صحیح باتوں کو داخل کرنا ہوتا ہے۔پس مبلغ کا کام ایسا مشکل ہے کہ حکومتیں بھی اس کے کرنے سے عاجز ہیں اور باوجود ہتھیاروں ، قید خانوں، فوجوں ، مجسٹریٹوں اور دوسرے ساز وسامان کے عاجز ہیں۔مبلغ کے مددگار جب مبلغ کا کام اس قدر وسیع اور اس قدر مشکل ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ اس کام کو کیونکر کر سکتا ہے؟ اس کے متعلق یا د رکھنا ہئے کہ وہ خدا جس نے یہ کام بندوں کے ذمہ لگایا ہے اس نے ان کو بے مددگار نہیں چھوڑا۔اگر مبلغ بے ساتھی و مددگار کے ہوتا تو اتنے بڑے کام کے مقابلہ میں کچھ بھی نہ کر سکتا۔مگر خدا تعالیٰ نے مبلغ کو دو مددگار دیئے ہیں جن کی امداد سے وہ تبلیغ کر سکتا اور کامیاب ہو سکتا ہے۔اس کے راستہ میں روکیں آتی ہیں ، مشکلات پیدا ہوتی ہیں مگر ان دو مددگاروں سے کام لے کر وہ سب روکوں کو دور کر سکتا ہے۔وہ مددگار کون سے ہیں؟ ان میں سے ایک کا نام تو عقل ہے اور دوسرے کا نام شعور۔جب مبلغ ان دو مددگاروں کی مدد حاصل کر سکتا ہے تو پھر اس کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔آگے چل کر میں تشریح کروں گا کہ عقل سے میری کیا مراد ہے اور شعور سے کیا۔اس جگہ اتنا ہی بتاتا ہوں کہ یہ مبلغ کے مددگار ہیں۔جب کوئی تبلیغ کے لئے جائے تو ان کو بلا لے اور جب ان کی مدد سے حاصل ہو جائے گی تو وہ وہ کام بہت خوبی کے ساتھ کر لے گا جو حکومتیں بھی نہیں کر سکتیں۔عقل کی مدد سے مراد ہر ایک انسان میں خدا نے عقل بھی پیدا کی ہے اور شعور بھی۔عقل سے میری مراد وہ مادہ اور انسان کے اندر کی وہ طاقت ہے جس کے ذریعہ انسان دلائل کے ساتھ معلوم کرتا ہے کہ فلاں بات درست ہے یا غلط۔بے شک بعض دفعہ انسان ضدی بن جاتا ہے اور ایک بات کو صحیح اور درست