زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 61 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 61

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 61 جلد اول کرنے لگ گئے اور ساتھ ساتھ ان لوگوں کی جو ان کے سامنے ہوتے تعریف کرتے جاتے۔گویاوہ کسی کی ٹوپی کسی کو دیتے اور کسی کی جوتی کسی کو پہنچا دیتے۔اس کا جو کچھ نتیجہ ہوا وہ ظاہر ہی ہے۔جب تک جس قوم میں جو کمزوریاں اور نقائص ہوں وہ اسے بتائے نہ جائیں اُس وقت تک کوئی مبلغ نہیں کہلا سکتا۔کیونکہ بلغ مَا اُنْزِلَ إِلَيْكَ کے ماتحت ضروری ہے کہ یہودیوں میں جو نقص ہوں وہ ان کو بتائے جائیں ، عیسائیوں میں جو نقص ہوں وہ ان کو سنائے جائیں۔غیر احمدیوں میں جو نقص ہوں ان سے انہیں آگاہ کیا جائے اور اپنی جماعت میں جو کمزوریاں ہوں وہ اپنے لوگوں کو بتائی جائیں۔ہاں جو مبلغ بنانے اور تیار کرنے والے ہوں ان کا کام ہے کہ ایک ایک شخص کو یہ سب باتیں بتا ئیں۔لیکن جو شخص تبلیغ کرتا ہے اس کا فرض ہے کہ وہ جس قوم میں جائے اس کی کمزوریاں اور نقائص است تک پہنچائے۔اگر اس کے سامنے کسی دوسری قوم کی کمزوریوں کا ذکر کرے گا تو یہ باج مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ کے ماتحت نہ ہوگا۔پس قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں کو ساری صداقتیں پہنچا دینی اور جو جس کا مستحق ہے اس کے پاس وہی پہنچانا مبلغ کا کام ہے۔اگر کوئی شخص کسی کو پوری پوری صداقت نہیں پہنچاتا تو وہ مبلغ نہیں ہو سکتا۔اور اگر کسی کے کام آنے والی صداقت کسی اور کو پہنچا دیتا ہے تو بھی مبلغ نہیں ہو سکتا۔کیونکہ یہ پہنچا نا نہیں ہوتا بلکہ پھینکنا ہوتا ہے۔مثلاً اگر چٹھی رساں کسی کا خط کسی کو دے آئے تو یہ نہیں کہیں گے کہ وہ خط پہنچا آیا بلکہ یہی کہیں گے کہ پھینک آیا ہے۔غرض مبلغ کے لفظ نے بتا دیا کہ جس کے کام آنے والی صداقت ہو اسی کو پہنچانا ضروری ہے اور مَا أُنْزِلَ إِلَیک نے بتا دیا کہ ساری کی ساری پہنچانی چاہئے نہ کہ اس کا کچھ حصہ پہنچادیا جائے۔اس چھوٹے سے فقرے میں مبلغ کا سارا کام بتا دیا گیا ہے۔تبلیغ کی تقسیم آگے پہنچانا دوطرح کا ہوتا ہے۔ایک اصول کا پہنچا نا، دوسرے فروع کا پہنچا نا۔غیر مذاہب کے لوگوں کے لئے تو اصول کی تعلیم