زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 60 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 60

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 60 جلد اول فلاں فلاں گھروں میں دے آؤ۔اب اگر نائن کو دس حصے پہنچانے کے لئے دیئے جائیں اور وہ ان میں سے آٹھ تو پہنچا دے مگر دو نہ پہنچائے تو وہ یہ نہیں کہہ سکتی آٹھ جو پہنچا آئی ہوں اگر دو نہیں پہنچائے تو کیا ہوا؟ پس جس طرح اس کا آٹھ حصے پہنچا دینا دو کے نہ پہنچانے کے قصور سے اسے بری الذمہ نہیں کر سکتا اسی طرح مبلغ اگر ہر ایک کو اس کا حصہ نہیں پہنچا تا بلکہ بعض کو پہنچا دیتا ہے تو وہ بری الذمہ نہیں ٹھہر سکتا۔اس لئے مبلغ کا فرض ہے کہ اسے جس قدر اور جس کے لئے جو کچھ دیا گیا ہے اسے پہنچا دے۔یہ بھی نہیں کہ سارے کا سارا ایک ہی کو پہنچا دے۔مثلاً اگر ایک شخص کے گھر کے پاس جو آدمی رہتا ہو وہ اسے عیسائیوں، دہریوں، آریوں وغیرہ کے رد کے دلائل پہنچا دے لیکن جن عیسائیوں، دہریوں یا آریوں سے واسطہ پڑتا رہتا ہوا انہیں یونہی چھوڑ دے تو اس کی نسبت یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس نے پہنچا دیا۔کیونکہ اس کا فرض ہے کہ دہریوں کے رد کے دلائل دہریوں کو بتائے ، عیسائیوں کے رد کے دلائل عیسائیوں کو بتائے اور آریوں کے رد کے دلائل آریوں کو پہنچائے۔تو جس طرح کوئی شخص اگر وہ ساری چیزیں نہ پہنچائے جو اسے پہنچانے کے لئے دی جائیں اور یا ان سب کو نہ پہنچائے جن کے لئے دی جائیں بری الذمہ نہیں ہو سکتا۔اسی طرح مبلغ ساری باتیں نہ پہنچائے اور جس جس کے لئے ہیں اس کو نہ پہنچائے تو وہ مبلغ ہی نہیں ہو سکتا۔مثلاً کوئی اس طرح کرے کہ عیسائیوں میں جائے اور جا کر ان کی تو تعریف کرے اور ان میں یہودیوں کے خلاف دلائل دینے شروع کر دے۔یا ہندوؤں میں جائے اور ان کی تو تعریف کرے لیکن عیسائیوں کے خلاف تقریر شروع کر دے۔یا غیر احمدیوں میں جائے اور ان کے بگڑے ہوئے عقائد کے متعلق تو کچھ نہ کہے مگر مجوسیوں کے خلاف دلائل دینے شروع کر دے تو اس سے کوئی فائدہ نہ ہوگا اور نہ وہ اپنے فرض سے سبک دوش سمجھا جائے گا۔اسی بات کو نہ سمجھنے کی وجہ سے پیغامی ہم سے الگ ہوئے ہیں۔ان کے لیکچراروں کا طریق تھا کہ غیر احمد یوں میں گئے تو عیسائیوں کے نقص بیان کرنے شروع کر دیئے۔ہندوؤں میں گئے تو کسی دوسرے مذہب کی برائیاں بیان