زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 59 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 59

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 59 جلد اول طرح اگر کوئی حقیقی اور اصلی مومن ہے تو رسول کریم ﷺ ہی ہیں۔ہم سب ظلی مومن ہیں کیونکہ ہم نے مومن بننے کے لئے جو کچھ لیا ہے رسول کریم والے سے ہی لیا ہے۔تو حقیقی مبلغ رسول کریم ہی ہیں۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ ان کو خدا تعالیٰ نے کس بات کا حکم دیا ہے۔خدا تعالیٰ رسول کریم ﷺ کو فرماتا ہے بَلغ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَّبَّكَ 2 جو کچھ تجھ پر تیرے رب کی طرف سے اتارا گیا ہے اسے لوگوں تک پہنچا دے۔اس کو مد نظر رکھ کر اسلامی مبلغ کے یہ معنی ہوئے کہ جو کچھ سول کریم ﷺ پر اتارا گیا ہے وہ لوگوں تک پہنچا دے اور اگر اس میں کو تا ہی کرے تو مبلغ نہیں کہلا سکتا۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے بَلغ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ پہنچا دے جو اتارا گیا ہے تجھ پر تیرے رب کی طرف سے۔وَاِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ 3 اور اگر تو نے یہ کام نہ کیا تو تب خدا کا پیغام نہ پہنچایا۔اس کے اگر یہ معنی کئے جائیں کہ تو نے خدا کا کلام اگر نہ پہنچایا تو کلام نہ پہنچایا تو کلام بے معنی ہو جاتا ہے۔مثلاً کوئی کہے کہ اگر تو نے روٹی نہیں کھائی تو نہیں کھائی۔یا پانی نہیں پیا تو نہیں پیا۔تو یہ لغو بات ہوگی۔کیونکہ جب روٹی نہیں کھائی تو ظاہر ہے کہ نہیں کھائی۔پھر یہ کہنے کا کیا مطلب ہے کہ تو نے نہیں کھائی۔یا پانی نہیں پیا تو ظاہر ہے کہ نہیں پیا۔پھر یہ کہنے کا کیا مطلب ہے کہ تو نے نہیں پیا۔اس لئے وَاِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَہ کے یہ معنی نہیں ہیں کہ اگر تو نے خدا کا کلام نہیں پہنچایا تو کلام نہیں پہنچایا۔بلکہ یہ ہیں کہ مَا أُنْزِلَ اِلَيْكَ میں جو وسعت رکھی گئی ہے اس میں سے اگر کوئی بات نہیں پہنچائی ، اس کا کوئی حصہ رہ گیا ہے تو تجھے جو کچھ پہنچانا چاہئے تھا اسے تو نے گویا بالکل ہی نہیں پہنچایا۔کیونکہ وہ کلام بتمام و کمال پہنچانا ضروری تھا۔پس مبلغ کا کام یہ ہے کہ جو کچھ رسول کریم ﷺ پر نازل ہوا وہ سارے کا سارا دنیا میں پہنچا دے اور جو حصہ جس کے متعلق ہے اسے پہنچائے۔یہ نہیں کہ کسی اور کا حصہ اور ہی کو دے آئے یا بعض کو ان کا حصہ پہنچا دے اور بعض کو نہ پہنچائے۔اگر وہ اس طرح کرے گا تو اپنے فرض سے سبک دوش نہ ہو گا۔بلکہ اس کا فرض ہے کہ جس جس کا حصہ ہے اس تک پہنچا دے۔مثلاً گھروں میں حصے بٹتے ہیں۔لوگ نائنوں کو حصہ دیتے ہیں کہ