زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 56
زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 56 جلد اول بھی سن لیتے ہیں تو کہتے ہیں اسی دلیل کو لے کر کیوں لوگ نہیں نکل جاتے اور ساری دنیا کو کیوں نہیں منوا لیتے۔اس کی کیا تردید ہو سکتی ہے اور کون ہے جو اس کو تو ڑ سکتا ہے۔حالانکہ مختلف طبائع مختلف دلائل کی محتاج ہوتی ہیں اور مختلف لیاقتوں کے دشمنوں کے مقابلہ میں مختلف ذرائع کو اختیار کرنا پڑتا ہے۔اگر ایک دلیل ایک قسم کے پانچ دس آدمیوں کے لئے مفید ہوتی ہے تو سینکڑوں پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔وہ بعض اور قسم کے دلائل کے محتاج ہو رتے ہیں۔پس مبلغ کے لئے ایک نہ ختم ہونے والے خزانہ کی ضرورت ہوتی ہے۔تو بعض لوگوں کے خیالات بالکل محدود ہوتے ہیں وہ ایک دلیل کو لے لیتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ یہ ایسی دلیل ہے کہ اس کا کوئی انکار نہیں کر سکتا اور یہ سب کے لئے کافی ہے۔حالانکہ ایسا نہیں ہے۔پھر یا ایسے لوگوں کی مثال ان بچوں کی سی ہے جو گاؤں میں رہتے ہیں اور ان کا کام یہ ہوتا ہے کہ بیریوں کے درختوں کے سرے سے بیر کھا چھوڑے یا جانوروں کے لئے چارہ لے آئے یا جانوروں کو باہر چرا لائے۔انہوں نے نہ کبھی کوئی شہر دیکھا ہوتا ہے نہ ریل اور تار سے واقف ہوتے ہیں اور جب کوئی ان کے متعلق انہیں باتیں سناتا ہے تو وہ اس طرح سنتے ہیں جس طرح کہانیاں سنی جاتی ہیں۔اس سے زیادہ دلچسپی ان کو نہیں ہوتی اور نہ کوئی اثر ان پر پڑتا ہے۔ان بچوں میں سے بہت کم ایسے ہوتے ہیں جن کے قلب پر یہ اثر پڑتا ہے کہ جب ہم بڑے ہوں گے تو ان چیزوں کو دیکھیں گے ورنہ سب ان باتوں کو سن کر اسی طرح مطمئن ہو جاتے ہیں جس طرح قصوں اور کہانیوں کے سننے کے وقت ہوتے ہیں۔کہانیاں سن کر انہیں کبھی یہ خیال نہیں آتا کہ جن باتوں کا ان میں ذکر ہے ان کو ہم دیکھیں اور معلوم کریں۔یہی حال طالب علموں کا ہوتا ہے۔اور ایسے ہی لوگوں کا جن کے خیال وسیع نہیں ہوتے وہ سمجھتے ہیں کہ صرف ایک نکتہ سے وہ سب مباحثات میں فتح پالیں گے۔وہ حیران ہوتے ہیں کہ دشمن کی فلاں دلیل کو تو ڑنا کون سی مشکل بات ہے۔ہمارے استاد نے یا فلاں مولوی صاحب نے جو بات بتائی ہے اس سے فورا اسے رد کیا جا سکتا ہے اور دشمن کو اپنی بات منوانے کے لئے مجبور کیا جا سکتا