زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 42
زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 42 جلد اول نماز پڑھتے وقت قرآن کھول کر سامنے رکھ لیا جائے اور کوئی لمبی سورۃ پڑھنی شروع کر دی جائے کیونکہ کوئی ضرورت نہیں کہ ہم قرآن کریم کا کوئی خاص حصہ کسی خاص موقع پر تلاوت کرنے کے لئے چنیں۔جبکہ اس کا ہر ایک حصہ ایک ہی ایسا با برکت اور مفید ہے۔پس اگر کوئی تلاوت کے لئے کھڑا ہوتا ہے اور اسے کوئی لمبی سورۃ یا قرآن کریم کا کوئی اور حصہ یاد نہیں ہے تو وہ سورۃ اخلاص ہی سنادے۔اس کا زبانی سنانا اس سے بہتر ہے کہ دیکھ کر ایک سیپارہ سنایا جائے۔تم اچھی طرح یاد رکھو کہ خدا نے جو شریعت ہمیں دی ہے وہ ایسی آسان اور مختصر ہے کہ اس پر عمل کرنے کے لئے جن باتوں کے یاد کرنے کی ضرورت کی ہے وہ بآسانی یاد کی جاسکتی ہیں اور یہ اس شریعت کی ایسی خصوصیت ہے جو دنیا کی کسی اور شریعت میں ہرگز نہیں پائی جاتی۔دیکھو قرآن کریم جہاں تمام دنیا کی کتابوں سے زیادہ مکمل ہے وہاں سب سے چھوٹا بھی ہے۔میں نے سارا قرآن دو ورق پر لکھا ہوا دیکھا ہے اور اس سے بھی کم جگہ پر لکھا ہوا سنا ہے۔اس کے مقابلہ میں انجیل کیا ہے۔چند مثالیں اور کہانیاں ہیں لیکن وہ بھی حجم میں قرآن سے بڑی ہے اور بائیل جو اصل کتاب ہے وہ تو بہت ہی بڑی ہے۔اور اس میں ایسے رنگ میں ایک ہی قسم کی باتوں کو بار بار دہرایا گیا ہے کہ اسے یا تو وہی پڑھ سکتا ہے جسے اس کا امتحان دینا ہو یا وہ جو مذہبی طور پر اس کے پڑھنے کے لئے مجبور ہو یا وہ جو عیسائیت کے متعلق لکھنے یا بولنے والا ہو ورنہ اس کے پڑھنے پر طبیعت ہی نہیں لگتی۔لیکن ہمیں جو کتاب ملی ہے وہ ایسی مختصر اور عمدہ ہے کہ اس کا کچھ نہ کچھ حصہ یاد کر لینا کوئی مشکل بات نہیں ہے۔اول تو خدا تعالیٰ جن کو توفیق دے وہ سارا ہی قرآن یاد کرنے کی کوشش کریں۔مگر چونکہ قرآن کو مختلف حصوں میں بھی تقسیم کر دیا گیا ہے اس لئے معمولی حافظہ والا بھی کچھ نہ کچھ یاد کر سکتا ہے۔چنانچہ بعض سورتیں اتنی چھوٹی اور مختصر ہیں کہ جو نہایت آسانی سے یاد کی جاسکتی ہیں۔پس اس بات کو یا درکھو کہ جب کبھی تمہیں کسی تقریب پر تلاوت کا موقع ملے تو اس کے لئے یہ ضروری نہیں کہ تم قرآن کھول کر کوئی بڑا رکوع سنانا شروع کر دو بلکہ جو حصہ تمہیں یاد ہو وہی سنا دو۔اور اگر سورۃ اخلاص یاد