زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 41 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 41

زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 41 جلد اول حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب کی یورپ سے آمد 31 مئی 1919 ء بعد نماز مغرب بورڈران تعلیم الاسلام ہائی سکول نے بورڈنگ ہاؤس میں حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب کی یورپ سے آمد کی خوشی میں ایک دعوت کی جس میں حضرت خلیفہ امسیح الثانی نے بھی شرکت فرمائی۔اس موقع پر آپ نے تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد جو تقریر فرمائی وہ درج ذیل ہے :۔ایسے موقعوں پر جیسا کہ آج کا موقع ہے لوگوں میں یہ طریق نہیں ہے کہ صدر جلسہ کوئی تقریر کرے یا ان غلطیوں اور فروگزاشتوں کی تصحیح کرے جو ایسے موقع پر بولنے والوں سے سرزد ہوئی ہوں لیکن ہمارے ہاں یہی سنت ہے کہ صدر تقریر کرے۔چنانچہ حضرت خلیفہ اول ضرور تقریر کیا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ شاید تم کو امید نہ ہو کہ میں کچھ کہوں گا لیکن میں آجکل کے پریزیڈنٹوں کی طرح کاٹھ کا الو بننا پسند نہیں کرتا۔تو چونکہ ایسے موقع پر بولنا پہلے سے سنت چلی آتی ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ اسی میں فائدہ ہے اس لئے بجائے اس کے کہ میں اس طریق کو اختیار کروں جو یورپ میں جاری ہے اور جس کی اس ملک میں تقلید کی جاتی ہے اسی سنت پر عمل کرتا ہوں جو ہم میں جاری ہے۔تلاوت قرآن کریم کے متعلق نصیحت سب سے پہلے تلاوت کے متعلق میں کچھ کہنا چاہتا ہوں۔افسوس ہے کہ تعلیم الاسلام ہائی سکول کے لڑکوں کی طرف سے اس تقریب پر جو حلاوت کی گئی ہے کیا وہ قرآن کو دیکھ کر کی گئی ہے۔رسول کریم ہے تو امی تھے اس لئے کبھی آپ نے دیکھ کر قرآن کریم نہیں پڑھا۔لیکن نماز میں قرآن کریم زبانی ہی پڑھا جاتا ہے۔یہ نہیں ہوتا کہ