زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 434
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 434 جلد اول ہوتے ہیں جنہیں پہلے پہل معمولی چیز ملتی ہے لیکن جب تعلقات بڑھ جاتے ہیں اور دوستی ترقی کر جاتی ہے تو دعوتیں ہونے لگتی ہیں۔پس اگر کسی کو خدا تعالیٰ خوان نعمت پر نہیں بلاتا اور دعوت نہیں دیتا تو بھی اسے کوشش جاری رکھنی چاہئے خواہ جبیز ہی مل جائے۔ایک بھوکے کو اگر روٹی کا ایک ٹکڑا بھی مل جائے تو اسے کچھ نہ کچھ طاقت حاصل ہو جاتی ہے اور پھر وہ آگے ترقی کر سکتا ہے۔پس دعاؤں کی طرف خصوصیت کے ساتھ توجہ کرنی چاہئے۔پانچویں نصیحت میں یہ کرنا چاہتا ہوں کہ مبلغوں میں اطاعت کا پورا پورا مادہ ہوتا چاہئے اور کسی عہدہ کی خواہش کو اپنے دل سے بالکل نکال دینا چاہئے۔جو اس قسم کی خواہش کرتا ہے اسے عہدہ تو شاید مل جائے۔رسول کریم ﷺ کی تو عادت تھی کہ ایسے شخص الله کو عہدہ نہ دیتے تھے۔3 مگر ہر شخص رسول کریم ﷺ کا سا استقلال نہیں دکھا سکتا۔اس لئے ممکن ہے کسی عہدہ طلب کرنے والے کو عہدہ مل جائے مگر اس کی روحانیت گر جائے گی۔بعض لوگ نادانی سے حضرت یوسف علیہ السلام کی مثال پیش کیا کرتے ہیں کہ انہوں نے عزیز مصر سے خود عہدہ مانگا تھا مگر ایسے لوگ قرآن کریم پر غور نہیں کرتے۔قرآن سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ بادشاہ آپ کو چیف منسٹر بنانا چاہتا تھا اور سب کچھ ان کے سپر د کرنا چاہتا تھا مگر وہ کہتے ہیں غلہ وغیرہ کا انتظام میرے سپرد کر دیا جائے۔گویا انہوں نے بڑے کام کو چھوڑ کر چھوٹے کام کی خواہش کی اور وزیر اعظم کی بجائے وزیر مال بننا چاہا۔اس طرح انہوں نے کوئی عہدہ طلب نہیں کیا بلکہ انکسار کا اظہار کیا اور بڑے عہدے سے انکار کیا۔میں سمجھتا ہوں اگر روحانی امور پر کام کی بنیاد ہو تو اسی راہ پر چلنے سے جس پر مقرر کیا جائے خدا تعالیٰ ترقی دے دیتا ہے۔مگر جب سوال عہدہ اور درجہ کا آ جائے تو نتیجہ خراب نکتا ہے۔ابھی چند روز ہوئے میں نے دیکھا ایک دوست کو کسی کام پر لگایا گیا تھا۔اس نے مجھے لکھا مجھے کوئی ذمہ داری کا کام نہ دیا گیا اور نہ میں کام اچھی طرح سے کر سکتا تھا۔جس ڈاک میں یہ چٹھی آئی اس میں ناظر صاحب اعلیٰ کی چٹھی تھی کہ فلاں عہدہ پر انہیں مقرر کیا