زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 432 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 432

زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 432 جلد اول کے حنفی اور رنگ کے ہوں گے اور ایران کے اور رنگ کے۔اسی طرح شافعی اور مالکی عقائد رکھنے والوں میں فرق ہوگا۔تو جہاں کوئی مبلغ جائے وہاں کے لوگوں کے عقائد معلوم کرنے ضروری ہیں تا کہ ان کو مدنظر رکھ کر تبلیغ کر سکے۔مثلاً ایک مسلمان حنفی کہلانے والا تعلیم یافتہ انگریزی پڑھا ہوا سیاستدان مذہب کے متعلق وہ خیالات نہ رکھے گا جو ایک مولوی کہلانے والا عربی دان رکھے گا۔اول الذکر کے سامنے یہ پیش کرنا کہ دیکھو قرآن و حدیث سے ثابت ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں اس پر کوئی اثر نہ کرے گا۔اس پر ایسی بات اثر کرے گی کہ دیکھو قوم کی تباہی کے کس قدر سامان پیدا ہو گئے ہیں اس کے لئے ضروری ہے کہ کوئی ایسا مرکز ہو جس کے ذریعہ مسلمانوں کو بچایا جائے۔اگر وہ شخص اسلام کو بطور مذہب مانتا ہوگا تو اسے ماننا پڑے گا کہ بے شک اس بات کی ضرورت ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی انسان کھڑا ہو جو مسلمانوں کو ایک مرکز پر جمع کرے۔اسی طرح اگر کوئی چکڑالوی خیالات کا ہو تو اسے یہ سنانے سے کہ حدیثوں میں یوں لکھا ہے اس پر کوئی اثر نہ ہو گا۔اور اگر اہلحدیث کہلاتا ہو تو قرآن کی آیات پیش کرنے پر کہہ دے گا بے شک یہ آیات ہیں لیکن ان کی تشریح جو حدیثوں میں آئی ہے وہی مانی جاسکتی ہے۔اس طرح وہ حدیثوں کو قرآن پر مقدم کرلے گا خواہ حدیث کتنی ہی کمزور ہو۔پس ایک مبلغ کے لئے یہ نہایت ضروری ہے کہ جن لوگوں میں اسے تبلیغ کے لئے بھیجا جائے پہلے ان کے عقائد، ان کے حالات اور ان کے رسم ورواج کے متعلق واقفیت حاصل کرے اور پھر کام شروع کرے۔تیسری بات مبلغ کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ کسی موقع اور کسی حالت میں بھی جوش میں نہ آئے۔بہت لوگوں کو ان کا بیجا جوش کامیابی سے محروم کر دیتا ہے۔وہ تقریر اچھی کر لیتے ہیں، ان کے دلائل بھی زبردست ہوتے ہیں مگر جوش سے کام خراب کر دیتے ہیں کیونکہ لوگ انہیں چھچھورا سمجھ کر ان کی باتوں کی طرف توجہ نہیں کرتے۔ہر ایک مبلغ کو اپنے نفس پر قابو پانے کی قابلیت پیدا کرنی چاہئے کیونکہ تبلیغ اور مباحثہ کے وقت اگر وہ جوش میں آ جاتا ہے تو لوگ یہی سمجھیں گے کہ وہ دلائل پیش نہیں کر سکتا۔