زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 426 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 426

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 426 جلد اول طاقت مضبوط ہو جائے، ان لوگوں میں اشاعت اسلام کا جذبہ پیدا ہو جائے اور وہ تبلیغ اسلام کے لئے کھڑے ہو جائیں تو جاپان اور چین کو عیسائیت کے پنجہ میں گرفتار ہونے سے بچا سکتے ہیں۔بارہا ہم کہہ چکے ہیں کہ سیاسی طور پر ہم گورنمنٹ کے مددگار ہیں مگر مذہبی طور پر جتنی ہماری قوم عیسائیت کی مخالف ہے اتنی کوئی اور نہیں ہے۔ہماری زندگی کا بہت بڑا مقصد یہ ہے کہ عیسائیت کو دلائل سے چل کر عیسائیت کے گھر میں اسلام پھیلا دیں اور حضرت مسیح علیہ السلام کو خدا کا بیٹا بنانے والوں کو اسلام کے شیدائی بنا دیں۔غرض عیسائیت کے مقابلہ کے لئے ایک مرکز مشرق میں قائم کرنے کی ضرورت ہے اور ایک مغرب میں۔مغرب میں ایسا مرکز انگلستان ہو سکتا ہے اور مشرق میں جاوا سماٹرا اور بور نیو کے جزائر۔ان میں اسلام کی طاقت کو مضبوط کر کے ہم چین اور جاپان کی حفاظت کر سکتے ہیں۔اس کے لئے خدا تعالیٰ نے سامان بھی پیدا کر رکھا ہے اور وہ یہ کہ ان جزائر میں مسلمانوں کی آبادی زیادہ ہے۔اگر ان میں مذہب کا احساس پیدا کر دیا جائے ، اگر ان میں مذہب کی حفاظت کا جوش پیدا کر دیا جائے ، اگر انہیں اشاعت اور حفاظت اسلام کے لئے تیار کر لیا جائے تو وہ عیسائیت کا بخوبی مقابلہ کر سکتے ہیں۔اس اہم کام کی طرف توجہ کرنا ضروری ہے۔اگر مسلمان اس میں ناکام رہے تو تھوڑے عرصہ میں دیکھیں گے کہ چین اور جاپان سے عیسائیت کی ایسی رو نکلے گی جس کا مقابلہ کرنا دوسرے عیسائی ممالک کے لئے مشکل ہو جائے گا۔عرصہ سے میری یہ رائے ہے کہ ایشیا کو عیسائیت کے حملہ سے بچانے کے لئے سماٹرا، جاوا اور سٹریٹ سیٹلمنٹس (Straits Settlements ) میں مرکز قائم کرنے کی ضرورت ہے۔کیونکہ میں دیکھ رہا ہوں جس طرح لکڑی کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے لئے اس میں شگاف ڈال دیئے جاتے ہیں اسی طرح عیسائی مشنری ایشیائی ممالک کو چیرنے کے لئے ان میں اپنے مشن پھیلا رہے ہیں۔اس سے ان کی غرض یہ ہے کہ چین، جاپان اور ہندوستان میں شگاف پیدا کر دیں۔لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے مقابلہ کے لئے سامان پیدا کر رکھے ہیں۔اور یہ صاف بات ہے کہ خدا تعالیٰ کی مشیت کے مقابلہ میں انسانی مشیت کچھ نہیں کر سکتی۔