زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 422 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 422

زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 422 جلد اول خشیت پائی جاتی ہے۔ولایت میں میں نے دیکھا ایک دہریہ کو مصباح الدین صاحب لائے تھے۔وہ پکا دہر یہ تھا۔لیکن باوجود اس کے اس میں خشیت تھی۔مگر ہندوستان میں ہم دیکھتے ہیں لوگ باوجود مذہب کے پابند کہلانے کے دہریت کی رو میں بہہ رہے ہیں۔عیسائیوں کی اس حالت کے متعلق یہی معلوم ہوا کہ ان لوگوں کی ساری تعلیم مذہبی آدمیوں کے ہاتھ میں ہے۔اگر کوئی مذہب سے باہر جاتا ہے تو بھی اس کی تربیت ایسے رنگ میں ہو چکی ہوتی ہے کہ مذہب کا احترام اس کے دل میں قائم رہتا ہے۔تو ہمارے مدنظر یہی سکیم ہے کہ جامعہ کے طلبہ تعلیم حاصل کر کے جوں جوں ضرورت پیدا ہوتی جائے کام پر لگائے جائیں تا کہ ہمارا ہر ایک کارکن اس قابل ہو کہ جب چاہیں کسی کو تبلیغ کے لئے بھیج دیں۔اس طرح ہم جامعہ میں بھی زیادہ طلباء لے سکیں گے کیونکہ ہم ان کے گزارہ کا انتظام کر سکیں گے۔لیکن جب تک ایسے لوگ تیار نہ ہوں اس وقت تک دوسرے لوگ لینے پڑتے ہیں اور لینے پڑیں گے۔پس یہ سکیم میرے ذہن میں ہے۔لیکن یہ نہیں کہ ہم مولوی فاضل بنا ئیں۔اب بھی موجودہ کورس میں جو نقائص ہیں وہ مولوی فاضل کا امتحان مد نظر رکھنے کی وجہ سے ہی ہیں۔گو علماء کو اس سے اختلاف ہو لیکن میری رائے ہے کہ پرانا فلسفہ بلکہ نیا فلسفہ بھی جس رنگ میں پڑھایا جاتا ہے وہ فضول ہے۔ہم ان سے بہتر کتا میں تجویز کر سکتے ہیں۔بہر حال جو موجودہ کو رس ہے اس میں ہم نے اپنے خیال کی قربانی کر کے مولوی فاضل کی جس قدر کتا بیں رکھی ہیں ان سے زیادہ نہیں کر سکتے۔وہ طلباء جو مولوی فاضل بننے کی خواہش سے داخل ہوئے ہوں میں انہیں مشورہ دوں گا کہ وہ اپنا کوئی اور انتظام کر لیں۔ہم اس بارے میں ان سے تعاون نہیں کر سکتے۔ان کے مبلغ بنانے اور قابل سے قابل مبلغ بنانے میں جو کچھ ہم سے ہو سکتا ہے کریں گے۔اور جوں جوں قدرت ہوگی زیادہ بہتر اور اعلیٰ انتظام کرتے جائیں گے۔لیکن مولوی فاضل بنانے کے لئے ہم اپنا اصل مقصد قربان نہیں کر سکتے۔میرے نزدیک جامعہ کا جو موجودہ کورس ہے اگر استاد توجہ کریں تو بہت اعلیٰ ہے۔اس کے مقابلہ میں مولوی ، مولوی عالم اور مولوی فاضل کے کورس میں بہت سی کتابیں