زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 36
زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 36 جلد اول اپنی بات یاد آ گئی اور احمدی ہونے کی وجہ سے <mark>ان</mark> سے دکھ اٹھ<mark>ان</mark>ے والوں کو اپنی۔اس لئے بے اختیار ہو کر ایک دوسرے کے گلے مل <mark>گئے</mark>۔تو کوئی مبلغ کسی کے متعلق نہیں کہہ سکتا کہ میں اس کو <mark>حق</mark> قبول کرالوں گا۔کیونکہ دل کسی کے اختیار میں نہیں ہوتا بلکہ خدا کے قبضہ میں ہوتا ہے۔اور دل کا صاف کرنا خدا ہی کے اختیار میں ہوتا ہے۔اس لئے مبلغ سے بڑھ کر اور کوئی <mark>ان</mark>س<mark>ان</mark> ایسا نہیں ہوتا جو بظاہر اپنی کوشش کی بنیاد کمزوری پر رکھتا ہے۔مبلغ ایک کام کے لئے جاتا ہے مگر نہیں ج<mark>ان</mark>تا کہ اس کا نتیجہ کیا ہو گا۔چاروں طرف اس کی مخالفت کرنے والے ہوتے ہیں۔پھر وہ نہیں ج<mark>ان</mark>تا کہ اس کی مخالفت میں شیط<mark>ان</mark> کیا تدابیر کرتا ہے کیونکہ شیط<mark>ان</mark> کا کام دلوں میں وساوس پیدا کرنا ہوتا ہے اور دل کا حال سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی ج<mark>ان</mark> نہیں سکتا۔اس لحاظ سے مفتی صاحب کا کام ایسا مشکل ہے کہ ہماری جماعت کو <mark>ان</mark> کے لئے خاص طور پر دعا<mark>ئیں</mark> کرنی چاہ<mark>ئیں</mark>۔یہ تو میں نے <mark>ان</mark> کے لئے کہا ہے جو اس دعوت کے دینے والے یا جو اس میں شریک اور جن کو <mark>ان</mark> کے ذریعے یہ بات پہنچے گی۔اب میں مفتی صاحب کو کہتا ہوں کہ وہ اس بات کو مفتی صاحب سے خطاب خوب یاد رکھیں کہ <mark>ان</mark> کا کام <mark>لوگوں</mark> کو <mark>حق</mark> منو<mark>ان</mark>ا اور قبول کرو<mark>ان</mark>ا نہیں بلکہ <mark>حق</mark> پہنچ<mark>ان</mark>ا ہے۔اللہ تعالیٰ ظالم نہیں اس لئے وہ اپنے بندوں کو ایسا کام سپردنہیں کرتا جسے وہ کر نہیں سکتے۔یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم میں یہ نہیں آیا کہ تم <mark>لوگوں</mark> کو <mark>مسلم<mark>ان</mark></mark> <mark>بنا</mark>ؤ بلکہ یہی آیا ہے کہ <mark>ان</mark> تک <mark>حق</mark> پہنچا دو 2 اور یہی ہر ایک مبلغ کا فرض ہے۔وہ مبلغ جو یہ سمجھتا ہے کہ میں نے <mark>لوگوں</mark> کو <mark>مسلم<mark>ان</mark></mark> <mark>بنا</mark>نا اور اپنا ہم عقیدہ کرنا ہے وہ یا تو بالکل نا کام اور نا مر اور بہتا ہے یا اپنا ایم<mark>ان</mark> بھی کھو بیٹھتا ہے۔چن<mark>ان</mark>چہ وہ لوگ جو اس خیال کو لے کر یورپ میں <mark>گئے</mark> کہ ہم <mark>وہاں</mark> کے <mark>لوگوں</mark> کو <mark>مسلم<mark>ان</mark></mark> <mark>بنا</mark> <mark>ئیں</mark> <mark>گے</mark> نہ یہ کہ <mark>ان</mark> تک <mark>حق</mark> پہنچا<mark>ئیں</mark> <mark>گے</mark> <mark>ان</mark> کو دوسری بات پیش آئی۔جب <mark>ان</mark>ہوں نے دیکھا کہ لوگ اصل اسلام کو