زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 36 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 36

زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 36 جلد اول اپنی بات یاد آ گئی اور احمدی ہونے کی وجہ سے ان سے دکھ اٹھانے والوں کو اپنی۔اس لئے بے اختیار ہو کر ایک دوسرے کے گلے مل گئے۔تو کوئی مبلغ کسی کے متعلق نہیں کہہ سکتا کہ میں اس کو حق قبول کرالوں گا۔کیونکہ دل کسی کے اختیار میں نہیں ہوتا بلکہ خدا کے قبضہ میں ہوتا ہے۔اور دل کا صاف کرنا خدا ہی کے اختیار میں ہوتا ہے۔اس لئے مبلغ سے بڑھ کر اور کوئی انسان ایسا نہیں ہوتا جو بظاہر اپنی کوشش کی بنیاد کمزوری پر رکھتا ہے۔مبلغ ایک کام کے لئے جاتا ہے مگر نہیں جانتا کہ اس کا نتیجہ کیا ہو گا۔چاروں طرف اس کی مخالفت کرنے والے ہوتے ہیں۔پھر وہ نہیں جانتا کہ اس کی مخالفت میں شیطان کیا تدابیر کرتا ہے کیونکہ شیطان کا کام دلوں میں وساوس پیدا کرنا ہوتا ہے اور دل کا حال سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی جان نہیں سکتا۔اس لحاظ سے مفتی صاحب کا کام ایسا مشکل ہے کہ ہماری جماعت کو ان کے لئے خاص طور پر دعائیں کرنی چاہئیں۔یہ تو میں نے ان کے لئے کہا ہے جو اس دعوت کے دینے والے یا جو اس میں شریک اور جن کو ان کے ذریعے یہ بات پہنچے گی۔اب میں مفتی صاحب کو کہتا ہوں کہ وہ اس بات کو مفتی صاحب سے خطاب خوب یاد رکھیں کہ ان کا کام لوگوں کو حق منوانا اور قبول کروانا نہیں بلکہ حق پہنچانا ہے۔اللہ تعالیٰ ظالم نہیں اس لئے وہ اپنے بندوں کو ایسا کام سپردنہیں کرتا جسے وہ کر نہیں سکتے۔یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم میں یہ نہیں آیا کہ تم لوگوں کو مسلمان بناؤ بلکہ یہی آیا ہے کہ ان تک حق پہنچا دو 2 اور یہی ہر ایک مبلغ کا فرض ہے۔وہ مبلغ جو یہ سمجھتا ہے کہ میں نے لوگوں کو مسلمان بنانا اور اپنا ہم عقیدہ کرنا ہے وہ یا تو بالکل نا کام اور نا مر اور بہتا ہے یا اپنا ایمان بھی کھو بیٹھتا ہے۔چنانچہ وہ لوگ جو اس خیال کو لے کر یورپ میں گئے کہ ہم وہاں کے لوگوں کو مسلمان بنا ئیں گے نہ یہ کہ ان تک حق پہنچائیں گے ان کو دوسری بات پیش آئی۔جب انہوں نے دیکھا کہ لوگ اصل اسلام کو