زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 410
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 410 جلد اول وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءَ 1 اس کا کیا مطلب ہے؟ یہ تو ہر انسان جانتا ہے کہ وہ ایک انسان سے پیدا ہوا ہے جو اس کا باپ تھا پھر وہ ایک انسان سے پیدا ہوا۔اسی طرح یہ سلسلہ ایک آخری انسان تک جا پہنچتا ؟ ہے۔پھر اس بات پر اسلام کے زور دینے کی کیا وجہ ہے؟ دراصل اس میں اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ انسانوں کو ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہئے۔چنانچہ آگے اس کا ذکر بھی فرما دیا کہ وَاتَّقُوا اللهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ 2 کہ اس کے نتیجہ میں آگے تم کو ایک دوسرے سے تعاون کرنا پڑتا ہے اور تم ایک دوسرے کی مدد سے ترقی کرتے ہو۔یا یہ کہ ایک دوسرے کے تعلقات کا لحاظ کرنا پڑتا ہے۔اس کے دونوں معنی ہو سکتے ہیں ایک یہ کہ ایک دوسرے کے تعلقات سے فائدہ اٹھایا جائے اس کا تم لحاظ رکھتے ہو۔دوسرے یہ کہ اگر ایک طرف اللہ تعالیٰ سے تعلق رکھو تو دوسری طرف انسانوں سے بھی صلح رکھو۔اس کے بغیر کام نہیں چل سکتا۔تو بہتر سے بہتر قابلیت کوئی مفید نتیجہ نہیں پیدا کر سکتی جب تک دوسروں کے ساتھ مل کر کام نہ کر سکے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ سے لے کر اس وقت تک کئی اعلیٰ قابلیتیں اس لئے ضائع ہو گئیں کہ ایسی قابلیتوں سے دوسری طبائع فائدہ نہ اٹھا سکتی تھیں۔وجہ یہ کہ ایسی قابلیتیں رکھنے والوں میں یہ مادہ نہ تھا کہ دوسرے سے مل کر کام کریں۔پس مبلغ کے لئے ضروری ہے کہ اپنے اندر انسانیت پیدا کرے۔یعنی دوسروں سے مل کر کام کرنے کی اس میں اہلیت ہو۔اتحاد اور تعاون سے کام کر سکے۔دوسری چیز انسان کے لئے انانیت ہے اسی کا دوسرا نام تو حید ہے۔انسان میں ایک تو انسانیت رکھی گئی ہے یعنی دوسرے انسانوں سے تعلق پیدا کرنا اور ان کے ساتھ مل کر کام کرنا۔دوسرے انانیت ہے یعنی یہ سمجھنا کہ میرے اور میرے رب کے درمیان اور کوئی واسطہ نہیں۔میرا اپنے رب کے ساتھ براہ راست تعلق ہے۔یہ بھی بہت ضروری چیز ہے۔اگر انسان اپنی عقل و خرد، حوصلہ اور ارادہ کو بالکل ماردے اور دوسرے کے ہاتھ میں اپنا سب کچھ