زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 408 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 408

زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 408 جلد اول جبکہ ہر قوم کوشش کر رہی ہے کہ اس کی زبان ترقی کرے اور ہماری یہ کوشش ہے کہ اردو علمی زبان کہلائے صحیح تلفظ ادا کیا جائے۔ایک عرب اس بات کی کوشش کرتا ہے کہ جو الفاظ اس کی قوم میں استعمال ہوتے ہیں انہیں غلط استعمال نہ کرے۔اسی طرح ایک تعلیم یافتہ انگر یز بھی اپنی زبان کے الفاظ غلط استعمال نہ کرے گا۔ہم بھی اگر دوسری قوموں میں اپنی زبان کی عزت قائم کرنا چاہتے اور خود اپنی نظروں میں اسے عزت دیتے ہیں تو ہمارے لئے بھی لازمی ہے کہ ہم اپنی زبان کے صحیح الفاظ ادا کریں۔سوائے اس کے کہ کبھی روانی تقریر میں کوئی لفظ غلط ادا ہو جائے اور ایسی غلطی بڑے سے بڑا مقرر کر سکتا ہے۔میں نے مولوی شبلی صاحب اور مولوی ابوالکلام صاحب آزاد کی تقریریں سنی ہیں وہ بھی ایسی غلطی کر جاتے کہ جلدی اور روانی میں کوئی لفظ غلط منہ سے نکل گیا۔اسے slip of the tongue یعنی زبان کا پھسل جانا کہتے ہیں۔جیسے کوئی راستہ چلتے ہوئے پھسل جائے۔یہ بات قابل معافی ہوتی ہے۔لیکن اگر کوئی پاؤں کے بل چلنے کی طاقت رکھنے والا شاہراہ پر جا کر گھٹنوں کے بل چلنے لگے تو یہ اس کی غلطی ہوگی اور ناقابل معافی غلطی ہوگی۔ایک دوڑتے ہوئے انسان کا پاؤں اگر پھسل جائے تو اس کا پھسلنا نظر انداز کر دیا جاتا ہے گو بچے اور دوسرے لوگ بھی اس کے پھسلنے پر ہنس پڑیں مگر یہ بنی شغل کے طور پر ہوگی اس کے فعل پر اظہار نفرت کے طور پر نہ ہو گی۔میں پھر امید رکھتا ہوں کہ مدرسہ احمدیہ کے استاد اور طلباء ایسی غلطیوں کی اصلاح کی طرف زیادہ توجہ کریں گے۔اس کے بعد میں حکیم فضل الرحمن صاحب کے کام کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں۔اگر چہ انہوں نے اپنے کام کے متعلق بعض باتیں بیان کر دی ہیں۔اگر وہ انہیں بیان نہ کرتے تو میں خود بیان کرتا۔مگر باوجود اس کے کہ انہوں نے وہ باتیں بیان کر دی ہیں میں ضروری سمجھتا ہوں کہ میں بھی ان کے متعلق کچھ بیان کروں۔میرے نزدیک دنیا میں بعض بہتر سے بہتر قابلیت رکھنے والے لوگ ہوتے ہیں مگر ان کی