زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 407 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 407

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 407 جلد اول " اس وقت جو ایڈریس پڑھا گیا ہے اس کے پڑھنے والے نے بعض الفاظ نہایت غلط پڑھے ہیں۔مثلاً محتاج کو متاج پڑھا ہے۔محتاج ایک عام لفظ ہے جو پنجابی بولنے والے عام طور پر اسی طرح بولتے ہیں جس طرح پڑھا گیا ہے مگر مدرسہ احمدیہ کے طلباء کو جو اس کا صحیح تلفظ جانتے ہیں اور جنہیں ضرور جاننا چاہئے انہیں اس طرح نہیں پڑھنا چاہئے۔اسی طرح مظفر کو مظفر ، مُراجعت کو مراجعت پڑھا گیا ہے اور بھی بہت الفاظ عربی اور اردو کے لحاظ سے غلط پڑھے گئے ہیں اور ایک کو تو ایسا بگاڑ دیا گیا کہ میں اسے سمجھے ہی نہیں سکا۔غرض اس ایڈریس میں دو تین درجن الفاظ ایسے استعمال کئے گئے ہیں جن میں معمولی سی احتیاط کی ضرورت تھی اور وہ صحیح پڑھے جا سکتے تھے۔مثلاً پھر کو فر پڑھا گیا ہے۔بے شک یہ درست ہے کہ پنجابی حلق ہر ایک لفظ کو پوری طرح ادا نہیں کر سکتا۔ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایک شخص نے اعتراض کیا کہ یہ تو قرآن کا صحیح تلفظ عربی لہجہ میں ادا نہیں کر سکتا۔ایسا شخص کہاں مسیح ہو سکتا ہے۔اس کی یہ بات سن کر سید عبد اللطیف صاحبہ شہید نے اس پر ہاتھ اٹھایا مگر مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم نے ان کا ہاتھ پکڑ لیا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی انہیں روک دیا۔تو بے شک بعض الفاظ کا عربی لہجہ میں تلفظ ادا کرنا اختیار سے باہر ہوتا ہے مثلاً اگر پنجابی تقریر کرتے وقت کوئی ضاد کو عربی لہجہ میں ادا کرنے کے پیچھے پڑے گا تو ایک طرف تو اس سے ضاد ادا نہ ہو سکے گا اور دوسری طرف اصل مضمون اس کے ہاتھ سے جاتا رہے گا۔لیکن اس میں بھی شبہ نہیں کہ بعض الفاظ پرانے زمانے کی غلطی کے نتیجہ کے طور پر غلط بولے جاتے ہیں یا ان کے صحیح بولنے کی کوشش نہیں کی جاتی۔ورنہ صحیح ادا کرنے کی قابلیت ہوتی ہے۔مثلاف کی بجائے پچھ کا ادا کر نا کسی پنجابی کے لئے مشکل نہیں ہے۔مگر چونکہ پنجابیوں میں چھ کی بجائے ف کو ادا کرنے کا رواج ہے اور عام طور پر پھر کوفر" کہتے ہیں اس لئے پڑھے لکھے بھی اسی طرح استعمال کرتے ہیں۔اس قسم کے الفاظ ایسے ہیں کہ ان کی اصلاح کرنے میں کوئی مشکل نہیں پیش آتی صرف احتیاط کی کمی ہے۔طلباء اور استادوں کے لئے ضروری ہے خصوصاً اس زمانہ میں