زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 406 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 406

زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 406 جلد اول طلباء کو نصیحت مبلغین کے لئے ضروری صفات۔ممالک غیر میں تبلیغ اسلام کی اہمیت طلباء مدرسہ احمدیہ نے حضرت حکیم فضل الرحمن صاحب مبلغ مغربی افریقہ کو ان کی آمد کی خوشی پر 30 جنوری 1930ء کو دعوت چائے دی جس میں حضرت خلیفتہ اسیح الثانی بھی تشریف لائے۔اس موقع پر حضور نے تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد جو خطاب فرمایا وہ درج ذیل ہے :۔میں نے متواتر سکول کے اساتذہ کو بھی اور طلباء کو بھی اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے کہ ایک مبلغ سب سے بڑا کام زبان سے لیتا ہے اس لئے زبان کا صحیح استعمال ضروری ہے۔لیکن یہ شکایت قریباً ہمیشہ مدرسہ احمدیہ کے طلباء کے متعلق پیدا ہوئی ہے کہ ان کا لہجہ اور تلفظ صحیح نہیں ہوتا۔اور بعض اوقات تو اس حد تک گرا ہوا ہوتا ہے کہ کان اس کے سننے کی طاقت نہیں رکھتے۔اور ایسی غلطیاں کی جاتی ہیں جو معمولی عدم توجہ کا باعث ہوتی ہیں اور معمولی سی توجہ کرنے سے دور ہو سکتی ہیں۔خواہ ایسی غلطیاں استادوں کی عدم توجہ کی وجہ سے ہوں یا طلباء کی عدم توجہ کی وجہ سے۔ہر حال میں قابل افسوس ہیں۔گو طبعا مجھے یہ بات نا پسند ہوتی ہے کہ میں کسی کے نقائص پر زور دوں۔خصوصاً ایسی حالت میں جب کہ یہ معلوم ہو کہ کس کے نقائص کا ذکر کیا جا رہا ہے۔لیکن طالب علموں کی حیثیت ایسی ہوتی ہے کہ انہیں ان کی غلطیاں بتائی جائیں اور اصلاح کی طرف توجہ دلائی جائے اس لئے میں ذکر کرتا ہوں۔