زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 402 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 402

زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 402 جلد اول انسان ہی ہوں وہ جس کی تائید کرے وہ بھی ناراض ہو اور جسے اس کے فعل کی سزا دے وہ بھی غصہ کا اظہار کرے تو ایک دن بھی زندہ نہ رہ سکے۔سوائے اس کے کہ حکومت کا رنگ ہو۔وہ سمجھے جو مخالفت کرے گا اسے کچل دیا جائے گا۔مگر اس طرح اسے اخلاقی موت قبول کرنا پڑے گی۔اخلاقی حیات کو قائم رکھتے ہوئے زندہ نہیں رہ سکتا سوائے اس کے جس کی نظر خدا پر ہو اور جس پر خدا تعالیٰ اپنی تائید اور نصرت نازل کرے۔کیونکہ وہ سمجھتا ہے جس کے لئے میں نے کام کیا جب وہ خوش ہے تو مجھے کسی اور کی کیا پر واہ ہے۔تو دین کے لئے قربانی کرنے کا خیال ہمیشہ یاد رکھنے والا خیال ہے۔مگر اس کے ساتھ ہی یہ بھی یادرکھنا چاہئے کہ مذہب کے لئے جو قربانی کی جائے وہ اپنا بدلہ خدا تعالیٰ سے لاتی ہے۔تم اپنے اندر روحانیت پیدا کرو۔آگے اس کے نتائج تمہیں خود حاصل ہو جائیں گے۔روحانی درجے بھی دو قسم کے ہوتے ہیں۔بعض انسانوں کو خدا تعالیٰ اس قابل سمجھتا ہے کہ دنیا میں ان کی قبولیت ہو۔ایسے لوگوں کی قبولیت پھیلا دیتا ہے۔چنانچہ رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں فَيُوْضَعُ لَهُ الْقَبُولُ فِي الْأَرْضِ - 4 دوسرا درجہ یہ ہے خدا تعالیٰ اپنے بندوں میں قبولیت نہیں پھیلا تا مگر اپنی رحمت کے روازے کھول دیتا ہے۔ایسا انسان ولایت الہی کے اثرات محسوس کرنے لگ جاتا ہے۔اس طرح بھی وہ سمجھتا ہے نا کام نہیں رہا کیونکہ وہ خدا کے فضل اور نوازش اپنے اوپر نازل ہوتا دیکھ لیتا ہے۔پس دین کی خدمت کرنا اور قربانی کے لئے تیار رہنا بہت بڑی بات ہے۔مگر اس سے بھی بڑی بات یہ ہے کہ خدمت اور قربانی خدا کے لئے ہو بندوں کے لئے نہ ہو۔اور جب خدا کے لئے ہوگی تو انسان کی نگاہ روحانیت پر ہوگی اور وہ کامیاب ہو جائے گا۔لیکن جو دنیا پر نظر رکھتا ہے اس کی نگاہ مادیات پر ہوتی ہے۔اس پر خدا کے فیوض نازل نہیں ہوتے اور نہ وہ دنیا کے لئے مفید ہوتا ہے۔لیکن روحانیت پر اپنی خدمات کی جو بنیا د رکھتا ہے اسے یا تو دنیا میں بھی قبولیت حاصل ہو جاتی ہے یا صرف خدا کی رحمتوں اور برکتوں کو