زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 398
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 398 جلد اول کوشش کرتا ہے کہ کسی چیز کو بھلا دوں وہ گویا اس بات کی کوشش کرتا ہے کہ اسے زیادہ یاد رکھوں۔غرض کسی چیز کو مٹانا انسان کی طاقت میں نہیں ہے۔بعض لوگ کہا کرتے ہیں میں کوشش کر رہا ہوں کہ فلاں بات بھلا دوں مگر جو ایسا کرتے ہیں وہ اور زیادہ اس میں مبتلا ہو جاتے ہیں کیونکہ در حقیقت کسی چیز کا مٹانا انسان کے اختیار میں نہیں ہے۔انسان کسی بات کو مٹاتا نہیں بلکہ اپنی توجہ اور طرف مشغول کر لیتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں ہے کہ اثرات کو مٹائے اور ایک جذبہ کے ساتھ ساتھ دوسرا جذ بہ نہ آنے دے۔پس دوسرے کاموں میں پڑنے کی وجہ سے ایک جذبہ اوجھل ہو جاتا ہے مگر مٹتا نہیں۔اسی طرح جب کوئی مبلغ آتا ہے تو ایک خاص جذبہ اور ایک نئی رو پیدا ہو جاتی ہے۔جتنی دیر استقبال میں، دعوتوں اور مجلسوں میں لگتی ہے اس میں ہر نوجوان کے دل میں یہ خیال موجزن رہتا ہے کہ ایک وقت میں نے بھی خدمت دین کرنے کا عہد کیا تھا مگر میں نے اس کی طرف توجہ نہ کی اب ضرور کروں گا۔اس طرح نئے سرے سے رو پیدا ہو جاتی ہے۔جب اس پر کچھ عرصہ گزرتا ہے تو پھر دب جاتی ہے مگرمٹتی نہیں۔اور جب ایسا ہی وقت آتا ہے تو تازہ ہو جاتی ہے۔پس ایسی مجالس سلسلہ کے لئے بہت مفید ہیں۔اسی خیال سے میں ان میں شامل ہوتا ہوں۔ورنہ مبلغ کے آنے اور جانے کی تقریبوں میں اتنا وقت لگ جاتا ہے کہ اگر اس قسم کا فائدہ نہ ہو تو گویا اس وقت کو ضائع کرنا ہے۔میں ان مجالس میں اس لئے آتا ہوں کہ ان میں چائے اور کھانے کا سوال نہیں بلکہ نو جوانوں کے قلوب پر دین کے لئے قربانی کرنے کا نقش پیدا کرنے کا سوال ہے۔اور یہ ایک عظیم الشان کام ہے۔ایسا نقش جن کے قلوب پر جم جائے گا وہ آج نہیں تو کل کل نہیں تو پرسوں ، پرسوں نہیں تو کسی نہ کسی وقت ضرور ظاہر ہوگا۔زندہ قوموں میں بہادری اور جوانمردی کے آثار اسی لئے قائم رکھے جاتے ہیں کہ ان سے نوجوانوں میں بہادری پیدا ہوتی ہے۔انگلستان کی قوم تاجر قوم ہے اور اس کے نزد یک جان بہت پیاری ہے مگر جنگ کے وقت دیکھو کہ کس طرح دیوانہ وار نکل کھڑی