زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 396
زریں ہدایات (برائے مبلغین) جیسا کہ کہا گیا ہے 396 جلد اول ه شد پریشان خواب من از کثرت تعبیر ها کیونکہ انسان کے دل پر غم اور خوشی ، حسرت اور محبت ، امیدوں اور امنگوں کے اثرات مختلف پڑتے ہیں۔جب ایک وقت خوشی کا اثر پڑتا ہے تو اس سے انسان لطفی محسوس کرتا ہے۔اور جب دوسرے وقت نمی کا اثر پڑتا ہے تو غم محسوس کرتا ہے۔اسی طرح دوسرے اثرات سے مختلف اوقات میں اثر پذیر ہوتا ہے۔لیکن اگر یہ ساری کی ساری کیفیتیں ایک دفعہ پیدا ہو جائیں تو دماغ پاش پاش ہو جائے۔انسان کو بیسیوں قسم کے رنج اور تکالیف پہنچتی ہیں۔اگر ان سب کے اثرات دماغ پر قائم رہیں تو دماغ ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے۔اسی طرح کئی رنگ کی خوشیاں اسے حاصل ہوتی ہیں۔اگر خوشی ہی خوشی رہے تو بھی انسان نکما ہو جائے۔کیونکہ اگر خوشی اور مسرت کے جذبات ہر وقت مسلط رہیں تو وقار اور سنجیدگی مٹ جائے۔اور اگر غم ہر وقت رہے تو امید اور امنگ کا مادہ باقی نہ رہے۔اس وجہ سے خدا تعالیٰ نے دماغ کو سینما کے فلم کی طرح بنایا ہے۔جس طرح فلم میں سارا واقعہ محفوظ ہوتا ہے لیکن لوگوں کے سامنے ایک ایک حصہ آتا ہے اسی طرح دماغ میں سب کچھ ہوتا تو ہے لیکن آنکھوں کے سامنے موقع اور محل کے مناسب ایک ایک ٹکڑا آتا ہے۔اس وجہ سے جب اسے ناگوار حالات کا سامنا ہوتا ہے تو وہ رنج محسوس کرتا ہے اور جب خوشگوار حالات میں سے گزرتا ہے تو خوشی حاصل کرتا ہے۔اور اس طرح اس کی حالت بدلتی رہتی ہے۔ایک وقت اس پر خوشی کی حالت آتی ہے اور دوسرے وقت رنج کی۔اور یہ باری باری آتی ہے جو ایک وقت انسان کو نا خوش کر دیتی ہے تو دوسرے وقت اسے خوشی پہنچا دیتی ہے۔دوسرا فائدہ یہ ہے کہ جب انسان پر مشکلات آتی ہیں تو اس کے حوصلہ کو بلند اور اس کی ہمت میں پختگی پیدا کرتی ہیں۔اور جب خوشی کی حالت آتی ہے تو انسان میں امنگ اور امید پیدا کرتی ہے۔