زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 387
زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 387 جلد اول۔اب باہر سے یہاں آنے والوں کو یہ بات نظر آتی ہے کہ یہاں ترقیات اور رحمتوں کا خزانہ ہے مگر ہم نے اس خزانہ کو اپنی آنکھوں سے بڑھتے اور زیادہ ہوتے دیکھا۔پس اس لذت کو ہمارے دل ہی جانتے ہیں۔جب کسی غیر ملک سے کوئی شخص یہاں آتا اور اس بات کا امیدوار ہوتا ہے کہ ہمارے ذریعہ اپنے ایمان کو ترقی دے تو اس کے ایمان کی ترقی ہماری باتیں سننے اور یہاں کی حالت دیکھنے کے بعد ہوتی ہے مگر ہمارے ایمان کی ترقی اس کی شکل کو دیکھتے ہی ہو جاتی ہے۔باہر سے آنے والا شخص سمجھتا ہے ہم اس کے استاد اور معلم ہیں۔لیکن ہم اس کے معلم پیچھے بنتے ہیں اور وہ ہمارے لئے پہلے استاد بنتا ہے۔جب ہم اسے اخلاص سے قادیان میں داخل ہوتے دیکھتے ہیں تو وہ کلمات ہماری آنکھوں کے سامنے پھر جاتے ہیں جنہیں دنیا ناممکن قرار دیتی تھی۔پس جب کوئی شخص پہلے یکہ سے اترتا تھا اور اب ریل گاڑی سے اترتا ہے تو اس کی شکل دیکھتے ہی وہ ہمارا استاد ہوتا ہے اور ہم اس کے شاگرد۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ چاہتا ہے تو ہم اس کے استاد بنتے ہیں اور وہ ہمارا شاگرد۔گویا یہ استاد شاگرد کا تعلق با ہمی ہے۔ہم ہی باہر سے آنے والے ހ کے استاد نہیں ہوتے بلکہ وہ بھی ہمارا استاد ہوتا ہے۔ابوبکر صاحب نے جس اخلاص کا اظہار کیا ہے میں دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ ان کے اس اخلاص کو قائم رکھے اور اسے ترقی دے اور ان کی ساری قوم میں پیدا کرے۔وہ اپنی قوم کے لئے مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف سے رسول ہو کر جائیں۔جس طرح پہلے مسیح کے رسول گئے تھے۔بلکہ ان سے بہت بڑھ کر برکتوں اور نصرتوں کے ساتھ جائیں۔کیونکہ ہمارا مسیح پہلے مسیح سے بہت بڑھ کر ہے۔دنیا اس وقت کفر اور الحاد میں بھٹک رہی ہے۔مذہب سے غفلت اور بے پرواہی پائی جاتی ہے۔ہر طرف تاریک بادل رات کی ظلمت کی طرح چھائے ہوئے ہیں۔محض اللہ تعالیٰ کا فضل اور رحم ہی انہیں پھاڑ سکتا ہے۔میں دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ ابوبکر صاحب اور دوسرے اصحاب کو جو سماٹرا سے یہاں آئے ہیں سورج کی طرح روشنی عطا کرے تا کہ وہ اپنے ملک کی تاریکی دور کر سکیں