زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 382
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 382 جلد اول ہوا ہوتا ہے کہ اس کے سامنے سب فلسفے اور سب تحقیقا تیں بیچ نظر آتی ہیں۔اگر آپ لوگ تبلیغ کرنا چاہتے ہیں اور اس کے لئے علم کی ضرورت ہے تو وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابوں میں مل سکتا ہے۔وہ علم جس کی آپ لوگوں کو ضرورت ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابوں سے باہر نہیں۔کیونکہ وہ قرآن کریم کی تفسیر ہیں اور ہمارے لئے سارا علم کی قرآن میں ہے۔مگر میں دیکھتا ہوں نو جوانوں کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابوں کی طرف اتنی توجہ نہیں جتنی ہونی چاہئے۔میں نے دیکھا ہے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کسی کتاب کی چند سطریں پڑھتا ہوں تو حقائق و معارف کے دریا بہنے لگ جاتے ہیں۔اس وقت میں حیران ہو جا تا ہوں کہ ان معارف کو قلم بند کروں یا کتاب پڑھوں۔میں کسی کتاب کے چند صفحے پڑھ کر ایک رو میں بہہ جاتا ہوں۔کئی دفعہ مجھے اس بات پر خوشی ہوئی کہ میں نے کوئی نئی بات نکالی۔مگر جب دیکھا تو وہ بات حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کسی تحریر میں موجود پائی۔گو وہ لوگوں کی نظر سے پوشیدہ تھی اور میری نظر سے بھی اس سے پہلے پوشیدہ تھی۔دراصل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابیں قرآن کریم کی طرح غیر محدود حقائق اور معارف رکھتی ہیں۔میں قرآن کریم کی بھی بھی تلاوت نہیں کر سکتا۔اپنے آپ کو مجبور کر کے رمضان میں کچھ لمبی تلاوت کر لیا کرتا ہوں۔مگر بارہا ایسا ہوا ہے کہ میں نے تلاوت شروع کی تو ایک ہی آیت پر رُک گیا اور اسی کو دہرا دہرا کر اس کے حقائق اور معارف سے لطف حاصل کرتا رہا۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابیں ہیں اگر نو جوان ان کی طرف توجہ کریں تو بہت فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس ترتیب سے باتیں بیان فرماتے ہیں جو انسانی فطرت چاہتی ہے۔فلسفیانہ طرز پر نہیں۔عام طور پر نوجوان اس رنگ کو پسند کرتے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ دن رات جن کتابوں سے انہیں واسطہ پڑتا ہے وہ ایسی ہی ہوتی ہیں اور یہ طرز ان کی عادت میں داخل ہو چکی ہوتی ہے۔مجھ پر امریکن کتاب بہت گراں گزرتی ہے کیونکہ میں نے ولایت کی انگریزی میں مطالعہ جاری رکھا ہے۔امریکہ کے بڑے بڑے اعلیٰ پایہ کے رسالے منگائے