زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 381
زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 381 جلد اول اس دفعہ آپ لوگوں کا جمع ہو کر قادیان آنا اور مولوی رحمت علی صاحب کو دعوت دینا ثبوت ہے اس بات کا کہ آپ لوگوں میں وہ زندگی پائی جاتی ہے جو احمدیت کے ذریعہ حاصل ہوتی ہے۔اور یہ زندگی موجود رہے گی۔اگر میری آنکھوں کے سامنے کوئی ایسی چیز بھی آ جائے جس سے یہ ظاہر ہو کہ احمدیت میں زندگی نہیں رہی تو بھی میں یہ نہیں سمجھوں گا کہ جو کچھ مجھے نظر آ رہا ہے وہ درست ہے کیونکہ میں خود روز غلطیاں کرتا ہوں مگر خدا تعالیٰ کبھی غلطی نہیں کرتا۔اور خدا تعالیٰ کہتا ہے یہ جماعت زندہ رہے گی اور بڑھے گی۔پس دوسروں کی آنکھ کا مجھے کچھ دکھانا تو الگ رہا اگر اپنی آنکھ بھی مجھے خدا تعالیٰ کے وعدوں کے خلاف کچھ دکھائے تو میں اسے ماننے کے تیار نہیں ہوں۔لیکن وہ جو دوسروں کی حالت کا اندازہ اپنی نظر سے کرتے ہیں خدا تعالیٰ کی بشارتوں سے نہیں کرتے ان کے لئے ضروری ہے کہ اپنی حالت سے انہیں صحیح اور درست اندازہ لگانے کا موقع بہم پہنچایا جائے۔اگر ہمارے نوجوان آئندہ بھی اسی طرح دین کے متعلق اپنی دلچسپی کا اظہار کریں تو یہی جواب کافی ہو گا ایسے لوگوں کے لئے جو اپنے دلوں میں کوئی غلط بات رکھتے ہیں۔میں نے پہلے بھی کئی دفعہ نوجوانوں کو توجہ دلائی ہے کہ جو نوجوان پہلے یہاں رہتے تھے وہ تبلیغ میں خوب حصہ لیتے تھے اور کوئی وجہ نہیں کہ آپ لوگ حصہ نہ لیں۔اس کے لئے جس قدر واقفیت کی ضرورت ہے وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابوں سے حاصل ہو سکتی ہے۔ان میں ایسی للہیت اور والہیت پائی جاتی ہے کہ ان کے پڑھنے والے کے دل میں عشق کا جذ بہ پیدا ہو جاتا ہے۔میں مطالعہ کا بہت شوق رکھنے والا ہوں اور میں نے تمام ممالک کی کتابیں کئی اصل زبان میں اور کئی ترجموں کے ذریعہ پڑھی ہیں۔میں نے روسیوں، فرانسیسیوں، جرمنوں، انگریزوں ، چینیوں ، جاپانیوں، امریکنوں کی کتابیں پڑھی ہیں۔اور باوجود اس کے کہ میں نے دیکھا ہے بعض لوگوں نے بڑی بڑی علمی تحقیقا تیں کی ہیں لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک سادہ فقرہ جذبہ اور اللہ تعالیٰ کی محبت سے ایسا بھرا