زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 373 of 467

زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 373

زریں ہدایات (برائے مبلغین ) 373 جلد اول نے جلباب کا کیوں حکم دیا ہے؟ کیوں کرتہ ہی نہیں رہنے دیا ؟ اس لئے کہ جسم کی بناوٹ ظاہر نہ ہو۔ڈھیلا ڈھالا کپڑا اوڑھا جائے۔اب اس غلط استعمال سے اس برقع کو برا نہیں کہا جائے گا مگر جو نقص ہوا ہے اسے دور کرنا چاہئے۔پس ضرورت ہے نقائص کی اصلاح کی کسی بات کی اندھا دھند تقلید نہ کی جائے۔اسلام وہ ہے جو نہ شرقی ہے نہ غربی۔اس لئے مسلمانوں کو نہ ایشیا کی نقل کرنی چاہئے نہ مغرب کی۔اس لئے کسی کی اندھا دھند تقلید نہ کرو۔نہ یہ کہ جو ایشیا میں چونکہ پردہ رائج ہے اس لئے جس طرح کا رائج ہے اس کو جاری رکھنا چاہئے نہ یہ کہ یورپ چونکہ پردہ نہیں کرتا اس لئے ہمیں بھی نہیں کرنا چاہئے بلکہ افراط تفریط سے بیچ کر صحیح رستہ پر چلنا چاہئے۔چند ہی دن ہوئے ایک صاحب ماسٹر محمد الدین صاحب کے ساتھ مجھ سے ملنے کے لئے آئے اور کہنے لگے کیا اتنی تباہیوں کے بعد جو مسلمانوں پر آئی ہیں یہی سمجھا جائے کہ الله اسلام ترقی کر سکے گا؟ میں نے ان سے کہا یہ جو کچھ ہوا یہ بھی محمد ﷺ نے بتایا تھا اور اُس وقت بتایا تھا جب کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ آ سکتا تھا کہ اس طرح ہوگا۔کیا بنوامیہ یا بنو عباس کے زمانہ میں کوئی ظاہر بین یہ خیال کرتا ہو گا کہ جن حدیثوں میں مسلمانوں کی تباہیوں اور بربادیوں کا ذکر ہے وہ صحیح ہیں؟ اس قسم کے لوگ انہیں بناوٹی کہتے ہوں گے مگر اب ہم انہیں اپنی آنکھوں سے صحیح ثابت ہوتا دیکھ رہے ہیں۔جب یہ درست ثابت ہوگئی ہیں تو ان کا دوسرا حصہ بھی ضرور درست ثابت ہوگا کہ اسلام کا میاب ہوگا۔پس یہ سخت نادانی ہوگی اگر ہم اہل یورپ کی دنیوی کامیابیوں کو دیکھ کر ان کی ہر ایک بات کے پیچھے اندھا دھند چلیں۔ہمیں اسلام کے مطابق چلنا چاہئے۔مگر یہ بھی یاد رکھنا چاہئے اسلام کے یہ معنی نہیں کہ جو کچھ مسلمانوں کے گھروں میں ہو رہا ہے وہ اسلام ہے۔اسلام مسلمانوں کے گھروں سے بھی اسی طرح نکلا ہوا ہے جس طرح عیسائیوں اور ہندوؤں کے گھروں سے نکلا ہوا ہے۔اسلام وہ ہے جو رسول کریم ﷺ نے پیش کیا اور قرآن کریم میں موجود ہے۔ورنہ اسلام نہ ہمارے گھر میں ہے نہ یورپ میں۔جب میں