زرّیں ہدایات (جلد اوّل برائے مبلغین۔1915ء تا 1930ء) — Page 372
زریں ہدایات ( برائے مبلغین ) 372 جلد اول کے لئے یہ کوشش کرنی چاہئے کہ لوگوں کو محسوس کرائیں۔ہمارا تمدن ناقص اور کمزور نہیں۔نقص یہ ہے کہ اس کا استعمال درست طور پر نہیں کیا گیا۔دیکھو ایک رنگ ایک خاص حد تک اچھا لگتا ہے۔مثلاً تصویر میں ایک حد تک نیلا یا کالا رنگ استعمال کرتے ہیں اور آسمان کا نظارہ نظر آتا ہے۔لیکن اگر نیلے یا سیاہ رنگ کی بوتل انڈیل دی جائے تو اس سے خوبصورتی نہ پیدا ہوگی بلکہ بدصورتی ہو جائے گی۔اسی طرح تصویر میں سفید رنگ سے بادل دکھائے جاتے ہیں لیکن اگر کاغذ پر کوئی قلعی پھیر لے تو یہ اس کی نادانی ہوگی۔پس ہم نے اپنے تمدن کو غلط طور پر استعمال کر کے نقائص پیدا کر لئے ہیں ورنہ اس میں نقص نہیں۔مثلاً عورتوں کا پردہ ہے اس کے لئے خود رسول کریم ﷺ نے جہاں تک عورتوں کے لئے آزادی رکھی ہے اس پر اگر کوئی عمل کرے تو اس کے خلاف ایک شور برپا ہو جائے۔آپ نے فرمایا ہے کہ اگر کوئی سوار جا رہا ہو اور عورت پیدل چل رہی ہو تو اسے اپنی پیٹھ پیچھے بٹھا لے۔اب اگر کوئی اس طرح کرے تو کتنا شور پڑ جائے حالانکہ رسول کریم ﷺ نے اسے صلى الله صدقہ قرار دیا ہے اور مرد کی ذمہ داری فرمائی ہے۔غرض غلط استعمال نے نقائص پیدا کر دیئے ہیں اس کی اصلاح ہونی چاہئے۔عورتوں کو اسلام نے جس حد تک آزادی دی ہے وہ دینی چاہئے۔مثلاً وہ باہر نکلیں۔کاموں میں حصہ لیں۔مجلسوں میں شریک ہوں مگر اسی طریق سے جو اسلام نے بتایا ہے اور جس پر عمل ہوتا رہا ہے۔یہاں اب اس قدر تو ہو گیا ہے کہ پردہ کو قائم رکھتے ہوئے ایڈریس پڑھے جاتے ہیں بے پردہ مسلمان عورتیں بھی ابھی اس قدر جرات نہیں کر سکتیں۔تو عورتوں کو اس حد تک آزادی دینی چاہئے جو اسلام نے انہیں دی ہے اور وہی ان کے لئے بہترین اور مفید آزادی ہے۔اس سے آگے انہیں قدم نہیں بڑھانا چاہئے۔میں اس برقع کو پسند کرتا ہوں جو نئی طرز کا نکلا ہے اس میں عورت زیادہ آزادی سے چل پھر سکتی ہے۔مگر بعض نے اس کا بھی غلط استعمال شروع کر دیا ہے۔انہوں نے اسے کوٹ بنالیا ہے جس سے جسم کی بناوٹ نظر آتی ہے۔اس طرح یہ ناجائز ہو گیا۔شریعت